
ایران نے امریکا کی جانب سے مذاکرات کی کوششوں کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کے خلاف کارروائیوں کے جواب میں سمندری گزرگاہ کو ’نو گو ایریا‘ میں تبدیل کردیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے دو غیر ملکی بحری جہازوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
ایران کی جانب سے قبضے میں لیے گئے جہازوں میں لائبیریا کا ’ایپامینونڈاس‘ اور پاناما کا ’ایم ایس سی فرانسسکا‘ شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان جہازوں پر ضروری اجازت نامے نہ ہونے اور نیوی گیشن سسٹم میں چھیڑ چھاڑ کا الزام ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے اس واقعے کو سمندری قزاقی قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ چونکہ یہ جہاز امریکی یا اسرائیلی نہیں تھے، اس لیے یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
دوسری طرف امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اب تک اپنی ناکہ بندی کے تحت 30 سے زائد جہازوں کو واپس بھیج چکی ہے، جبکہ بحر ہند میں بھی ایرانی ٹینکرز کی نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔
ایران کی جانب سے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے غیر معینہ مدت کے لیے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
دو ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی، جس کی مدت میں ٹرمپ غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کرچکے ہیں، اب ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ ایران نے تاحال اس توسیع کو قبول نہیں کیا ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی صدر کی جانب سے بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مکمل جنگ بندی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ناکہ بندی ختم کی جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ جنگ بندی کی ایسی سنگین خلاف ورزی کی موجودگی میں آبنائے ہرمز کو کھولنا ناممکن ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے فوجی جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کیے اور اب دھونس دھمکیوں سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا، واحد راستہ ایرانی عوام کے حقوق تسلیم کرنا ہے۔
پاکستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے پاکستانی ثالثوں کی درخواست پر حملے روکے ہیں تاکہ ایرانی قیادت کو ایک متفقہ تجویز لانے کا موقع مل سکے۔
اگرچہ گیارہ دن قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا تھا، لیکن پاکستان اب بھی دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
اس دوران لبنان میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آئی ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، جبکہ ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو سزائے موت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون میں بھی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں جہاں بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن کو ان کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
یہ تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے سویلین ڈھانچے پر بمباری کی دھمکیوں سے فی الحال قدم پیچھے ہٹائے ہیں۔
اس جنگ نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور خام تیل کی قیمتیں دو ہفتوں میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔
عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔