ٹرمپ کا ایرانی قیادت میں اختلافات کا دعویٰ، تہران کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی قیادت کو سنگین طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار قرار دیتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے، تاکہ مذاکرات کے لیے مزید وقت حاصل کیا جا سکے۔ تاہم اس دعوے کے برعکس، ایران کے اندر مختلف طاقت کے مراکز اور اہم شخصیات کی پوزیشن پیچیدہ ضرور ہے، مگر مکمل انتشار کے شواہد واضح نہیں۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کی قیادت میں اختلافات پائے جاتے ہیں، جبکہ انہوں نے آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا بھی اعلان کیا۔

اس سے قبل وہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ایران میں قیادت تبدیل ہو چکی ہے اور اب امریکا نئے لوگوں سے مذاکرات کر رہا ہے۔

ایران میں سب سے بڑا اختیار سپریم لیڈر کے پاس ہوتا ہے، جو مسلح افواج کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ حالیہ جنگ کے آغاز پر سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو 8 مارچ کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ کبھی عوامی عہدے پر منتخب نہیں ہوئے، تاہم وہ طویل عرصے سے طاقتور حلقوں، خصوصاً پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران میں سخت گیر عناصر بدستور طاقت میں ہیں اور فوری طور پر امریکا سے معاہدے کے حق میں نہیں۔

اگرچہ ان کی صحت سے متعلق مختلف غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئیں، تاہم سرکاری سطح پر کہا گیا ہے کہ وہ جنگ اور اہم فیصلوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف امریکا کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں، جو 11 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوئے۔ وہ ماضی میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اور تہران کے میئر بھی رہ چکے ہیں۔

قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرے گا، تاہم وہ سفارت کاری کو فوجی کامیابیوں کو سیاسی نتائج میں بدلنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ملک کے اندر ان کی مذاکراتی پالیسی کو تنقید کا سامنا بھی ہے، جہاں کچھ حلقے اسے غداری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے محتاط حکمت عملی سمجھتے ہیں۔

ایران کا عسکری ڈھانچہ پیچیدہ ہے، جس میں باقاعدہ فوج کے ساتھ پاسدارانِ انقلاب ایک طاقتور اور خودمختار ادارہ ہے۔ یہ نہ صرف دفاع بلکہ سیاسی نظام کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

حالیہ جنگ کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت ردعمل دیا اور خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم کے کچھ ارکان بھی پاسدارانِ انقلاب کے مؤقف کے قریب ہیں۔

تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکری اور سفارتی حلقوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں، جس کی مثال جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں حملوں سے دی جاتی ہے، جو سفارتی کوششوں کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کے اندر ایک اور اہم گروپ ’پائیداری فرنٹ‘ ہے جو سخت گیر نظریات کا حامل ہے اور 1979 کے انقلاب کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔ یہ گروپ مذاکرات پر سوال اٹھا رہا ہے اور اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گروپ زیادہ تر اپنے حامیوں کو متحرک کرنے پر توجہ دیتا ہے اور اس کا اثر فیصلہ سازی کے مرکزی ڈھانچے تک محدود ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران میں مختلف طاقت کے مراکز کے درمیان اختلافات اور ترجیحات کا فرق ضرور موجود ہے، لیکن حتمی فیصلے اب بھی سپریم لیڈر اور ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔

اگر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو امکان ہے کہ وہ ریاستی سطح پر ایک متحد مؤقف کے ساتھ سامنے آئے گا، جبکہ اندرونی سطح پر اختلافات اور تنقید جاری رہ سکتی ہے۔

یوں مجموعی طور پر ایران کی قیادت کو مکمل طور پر منتشر کہنا مبالغہ ہو سکتا ہے، البتہ طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان پالیسی اختلافات ضرور موجود ہیں، جو مذاکرات کے عمل کو پیچیدہ بناتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles