مائیکل جیکسن کی پراسرار موت ایک بار پھر زیرِ بحث؛ سوالات پھر اٹھ گئے
پاپ گلوکار کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی برسوں بعد دوبارہ خبروں میں آگئی
عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکار مائیکل جیکسن کی زندگی کی طرح ان کی موت بھی برسوں بعد دوبارہ خبروں میں آ گئی ہے، خصوصاً نئی بایوپک کی متوقع ریلیز سے قبل ان سے جڑے سوالات اور قیاس آرائیاں ایک بار پھر زیرِ بحث ہیں۔
25 جون 2009 کو مائیکل جیکسن کی اچانک وفات نے دنیا بھر کے مداحوں کو صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ بعد ازاں سرکاری تحقیقات میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ان کی موت طاقتور ادویات، خاص طور پر پروپوفول کے زیادہ استعمال کے باعث ہوئی تاہم اس کیس میں ان کے معالج ڈاکٹر کونراڈ مرے کو قانونی طور پر ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا۔
تاہم سرکاری مؤقف کے باوجود وقتاً فوقتاً مختلف سازشی نظریات سامنے آتے رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ گلوکار نے مالی دباؤ اور کنسرٹ سیریز کے بوجھ سے بچنے کیلئے اپنی موت کا ڈرامہ رچایا جبکہ بعض افراد کا خیال ہے کہ وہ اب بھی کسی خفیہ مقام پر زندہ ہیں۔
ایک اور نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ انہیں ایسے افراد نے نشانہ بنایا جو ان کے قیمتی میوزک کیٹلاگ سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، اس تناظر میں ان کی بہن لاٹویا جیکسن نے بھی ماضی میں شبہات کا اظہار کیا تھا۔
کچھ قیاس آرائیوں میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے محض کنسرٹس ملتوی کروانے کیلئے اوور ڈوز کا ڈرامہ کیا جو بعد میں جان لیوا ثابت ہوا۔ مزید غیر مصدقہ دعوؤں میں کلوننگ جیسے موضوعات بھی شامل کیے جاتے رہے ہیں تاہم ان کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔
واضح رہے کہ مائیکل جیکسن نے اپنی موسیقی، خصوصاً تھرلر جیسے تاریخی البمز کے ذریعے پاپ میوزک کو عالمی سطح پر نئی پہچان دی، آج بھی دنیا بھر میں ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اگرچہ ان کی وفات کے برسوں بعد بھی مختلف نظریات گردش کرتے رہتے ہیں لیکن مستند تحقیقات کے مطابق ان کی موت کی اصل وجہ وہی ہے جو سرکاری رپورٹ میں بیان کی گئی جبکہ باقی دعوے محض قیاس آرائیاں تصور کیے جاتے ہیں۔