آبنائے ہرمز کی بندش؛ فرانس نے چین سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کردیا

فرانس کے نیول چیف ایڈمرل نکولس ووجور نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل بحال کرنے کے موجودہ اقدامات ناکافی ہیں، اس معاملے پر چین کو فعال اور براہِ راست کردار ادا کرنا ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانسیسی نیول چیف نے بدھ کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چین کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔

پیرس میں منعقدہ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک چین کی بحریہ کو آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے عملی اقدام کرتے نہیں دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی اور ایرانی حکام کے درمیان جہازوں کی محدود آمد و رفت کے حوالے سے سیاسی سطح پر رابطے جاری ہیں تاہم یہ اقدامات معمول کی بحری ٹریفک بحال کرنے کے لیے کافی نہیں ہوں گے، اسی لیے چین کو اس معاملے میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنی بے چینی ظاہر کرنا ہوگی۔

ایڈمرل ووجور کے مطابق فرانس اس معاملے پر دیگر ممالک کو ایک میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ سیاسی سطح پر یہ طے کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز کو مستقل بنیادوں پر کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طے ہوجانے کے بعد شرائط طے ہوجانے کے بعد اس عمل کی نگرانی کے لیے فوجی کردار بھی ضروری ہوگا، جس کے لیے ماضی میں یورپی یونین کے تحت چلنے والے ’ایجینور مشن‘ جیسے ماڈل پر غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ماہرین آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائے کے حوالے سے بھی جائزہ لے رہے ہیں، جنہیں ہٹانا ضروری ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف فرانس کا نہیں بلکہ خلیجی ممالک، امریکا اور دیگر یورپی ممالک سمیت تمام شراکت داروں کے لیے اہم ہے اور اس پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles