
امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کو سینیٹ اور کانگریس میں سادہ اکثریت حاصل ہونے کے نتیجے میں وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا امکان بڑھ گیا ہے، جبکہ ہیگسیتھ نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے مواخذے کا سامنا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹس کو وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے مواخذے کے لیے مزید ریپبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان ہے، جس کے بعد ان کی وزارت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
دوسری جانب پیٹ ہیگسیتھ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہیں اور مواخذے کا سامنا کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند ماہ اور اگلے دو سال محکمہ جنگ اور امریکا کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر جنگ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ میں تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے پر بھی کسی قسم کے پچھتاوے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایران جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔