
خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش نے ناکام بنا دی ہے جب کہ افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی کارروائی سے افغان طالبان کی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع کرم کے شلوزان سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ایک گروہ نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی، جسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے روک دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پر دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر افغان طالبان نے مبینہ طور پر بلااشتعال فائرنگ شروع کردی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے افغان طالبان کی فائرنگ کے جواب میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فوری، مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں مبینہ دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام ہوگئی جب کہ افغان طالبان کی سرحدی چوکیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر حالیہ دنوں میں فائرنگ اور جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ اس سے قبل 27 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے مبینہ طور پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے تھے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک مارٹر گولہ شہری آبادی میں گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی ہوگئے تھے، جبکہ علاقے کی بعض دکانوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
واقعے کے بعد 28 اکتوبر کو وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے بیان کو جھوٹا اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنایا اور مارٹر گولے فائر کیے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی 7 پوسٹیں تباہ کردی تھیں۔
بعد ازاں 30 اکتوبر کو بھی پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے جواب میں کارروائی کی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے جنوبی وزیرستان اور پاراچنار سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز کی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے جب کہ متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
یکم نومبر کو بھی جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
ڈپٹی کمشنر لوئر جنوبی وزیرستان کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔ اس واقعے میں پاکستانی حدود میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔