
اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کی صورت حال نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے اور وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات انتہائی محدود ہوگئے ہیں۔ عرب جماعتوں کی جانب سے حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے اعلان نے انہیں پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت سے بھی زیادہ ارکان کی تائید دلا دی ہے۔
اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے جمعرات کو پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت مکمل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ وہ اتوار کو کسی ایک رکنِ پارلیمنٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کا باضابطہ مینڈیٹ دیں گے۔
صدر ہرزوگ کے مطابق مختلف جماعتوں کے مجموعی طور پر 67 ارکان نے اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری دینے کی سفارش کی، جبکہ 46 ارکان نے موجودہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے حق میں رائے دی۔ سات ارکان نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔
عرب جماعت یونائیٹڈ عرب لسٹ، جسے رعَم بھی کہا جاتا ہے، نے پہلے ہی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔ اس جماعت کے پاس کنیسٹ کی آٹھ نشستیں ہیں۔ بعد ازاں 11 نشستوں والی عرب جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کے لیے نامزد کرنے کی سفارش کردی، جس کے بعد ان کے حق میں سفارش کرنے والے ارکان کی تعداد 67 ہوگئی۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی دیرینہ اتحادی مذہبی جماعت یونائیٹڈ توراہ یہودیت نے صدر سے ملاقات کے دوران کسی بھی امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے نامزد کرنے کی سفارش نہیں کی۔ سات نشستوں والی اس جماعت کے فیصلے سے نیتن یاہو کے حق میں سفارشات کی تعداد متاثر ہوئی ہے۔
اسرائیلی انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادیوں کو مجموعی طور پر 53 نشستیں ملی تھیں، جبکہ آئزن کوٹ کے ساتھ موجود یہودی اپوزیشن جماعتوں کے پاس 48 نشستیں ہیں۔ عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کی ہیں۔
اگرچہ آئزن کوٹ کو صدر کے سامنے سب سے زیادہ ارکان کی حمایت حاصل ہوئی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی حکومت بننا یقینی ہوگیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کی شرائط حکومت سازی میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
صدر آئزک ہرزوگ نے بھی کہا ہے کہ وہ مزید مشاورت کے بعد اتوار کو فیصلہ کریں گے کہ کس رکنِ پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا جائے۔ مینڈیٹ ملنے کے بعد نامزد امیدوار کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرکے کنیسٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔