
ترکی کی پارلیمان نے سعودی عرب اور پاکستان پر مشتمل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے پیش کیا گیا تھا۔
ترک سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین فواد اوکتائے نے معاہدے کی توثیق کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کی منظوری کے بعد ترکیہ کے لیے سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ یہ پیش رفت یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں اہم قرار دی جارہی ہے۔
جمعے کی صبح ترک پارلیمان کے ارکان کی منظوری کے بعد معاہدہ نافذ ہوگیا۔ اس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ 600 رکنی ترک پارلیمان میں معاہدہ 119 کے مقابلے میں 279 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اس معاہدے پر 7 اگست کو سعودی شہر مکہ میں دستخط کیے گئے تھے۔ معاہدے پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔
معاہدے میں تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، دفاعی تعاون بڑھانے اور خطے سمیت دنیا میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
اس اتحاد میں شامل ممالک کے وزرا اب تک دو مرتبہ ملاقات کرچکے ہیں۔ ان میں ایک اجلاس استنبول اور دوسرا ریاض میں منعقد ہوا تھا۔
معاہدے کے تحت اتحاد کا سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔ ریٹائرڈ پاکستانی جنرل نعمان محمود کو اس کا پہلا سیکریٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے، جو ممکنہ طور پر تین سال تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔