
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی کسی نہ کسی صورت میں کوئی اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ ختم کر سکتا ہے، لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ دیرپا ثابت ہو۔
ترک خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق جنوبی کیرولائنا میں ایک سیاسی جلسے سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا۔
ان کا صحافیوں کے جواب میں کہنا تھا کہ ’نہیں، میرے خیال میں ہم مذاکرات نہیں کر رہے۔ کسی نہ کسی صورت میں جلد ہی کچھ ہونے والا ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگی، تاہم ابھی دیکھنا ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
اس سے پہلے جنوبی کیرولائنا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا چاہے تو ابھی ایران کے ساتھ جنگ ختم کر سکتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ طویل عرصے تک برقرار رہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ہم ابھی واپس جا سکتے ہیں، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یہ امن طویل عرصے تک قائم رہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر شکست دے دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے منصوبے تیار کیے ہیں۔
اخبار نے امریکی حکام اور اس معاملے پر بریفنگ حاصل کرنے والے دیگر افراد کے حوالے سے بتایا کہ ایران پر دوبارہ حملوں کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ابھی یہ یقینی نہیں کہ ٹرمپ ان منصوبوں کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ رواں برس ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے منصوبوں کو متعدد بار مسترد کر چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی ’’جو موجود بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی۔‘‘
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ اس دوران آبنائے ہرمز کی آمدورفت بھی شدید متاثر ہوئی تھی اور یہ اہم بحری راستہ عملاً بند ہو گیا تھا، جہاں سے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔
بعد ازاں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے نتیجے میں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، تاہم مختلف معاملات پر اختلافات کے باعث اس پر پیش رفت رک گئی تھی۔ ان اختلافات میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کا معاملہ بھی شامل ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیان اور ایران پر ممکنہ نئے حملوں سے متعلق رپورٹ کے بعد خطے میں جنگ کے خاتمے اور امریکا ایران تعلقات کے مستقبل پر غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔ تاہم، ایران پر دوبارہ حملوں کے بارے میں امریکی صدر کی جانب سے تاحال کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔