
ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ، 4 جہاز حملوں کی زد میں آکر آگ لگنے سے متاثر ہوئے، 3 بحری سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے
آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہی رات میں 7 تیل بردار بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 4 جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی، جب کہ مزید 3 جہاز بحری سرنگوں سے ٹکرا کر ناکارہ ہوگئے۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اس آبی گزرگاہ میں ایک دن کے دوران جہازوں کو نقصان پہنچنے کا سب سے بڑا واقعہ ہوسکتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی نشریاتی ادارے نے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ نشانہ بننے والے 4 تیل بردار جہاز تیل کی منتقلی میں مصروف تھے۔ رپورٹ کے مطابق دیگر 3 جہاز بحری سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث متاثر ہوئے اور ان کی نقل و حرکت رک گئی۔
تاہم ایرانی رپورٹ میں متاثرہ جہازوں کے نام، ان کے پرچم، ممکنہ جانی نقصان یا تباہی کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ان واقعات کی آزادانہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں ایسے جہاز جو اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند کرکے سفر کریں گے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی بحریہ کے مطابق ایک تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جہاز آبنائے سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے انجن روم میں دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔
ایران نے الزام لگایا کہ جہاز نے اپنے مقام اور راستے کی نشاندہی کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے اور اس راستے سے گزر رہا تھا جسے تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ تاہم جہاز کی شناخت اور نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایرانی حکام نے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کا دعویٰ کیا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے مطابق ہفتے کو ایک اور بڑے تیل بردار جہاز کو بھی بحری سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔
ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اس جہاز میں 20 لاکھ بیرل سے زیادہ خام تیل موجود تھا اور وہ مبینہ طور پر غیر مجاز جنوبی راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ تازہ واقعات نے خطے میں بحری آمدورفت اور عالمی تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔