
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی فوجوں نے ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار کرلیے ہیں، جن پر امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اور اسرائیل نے اپنی فوجی مشقیں تیز کردی ہیں۔ ان مشقوں میں عراق کی فضائی حدود میں پروازیں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے ممکنہ حملوں کی مشق کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرونز کے ذخیرے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق منصوبوں میں پِک ایکس ماؤنٹین نامی زیر زمین مقام پر حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جہاں تنصیبات زمین کے اندر بہت گہرائی میں موجود ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی تھی۔
تاہم اخبار نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان منصوبوں کی منظوری دینا یقینی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ رواں برس ایران کے خلاف دوبارہ بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے سے متعلق متعدد منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت بات چیت جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو ممکن ہے موجود ہوں یا ممکن ہے موجود نہ ہوں۔ عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے مسلسل حملوں اور ایران کی دھمکیوں کے پیش نظر مشرق وسطیٰ کے بعض امریکی فوجی اڈوں پر اہلکاروں کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے اس سلسلے میں خاموشی سے اقدامات شروع کیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی نقل و حرکت کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
سی بی ایس کے مطابق امریکا نے سعودی عرب میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں بعض امریکی سفارت خانوں نے اپنا عملہ کم کرکے سرگرمیاں محدود کردی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف ممکنہ نئے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی تیاریوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد کم کرنے اور سفارتی سرگرمیاں محدود کرنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے فوجی نقل و حرکت کو معمول کی کارروائی قرار دیا ہے اور نئے حملوں کے منصوبوں پر حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خطے میں میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے۔ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں آمدورفت بھی عملاً بند ہوگئی تھی۔ یہ سمندری راستہ دنیا بھر میں تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان اور قطر کی ثالثی سے جون میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، لیکن مختلف معاملات پر اختلافات کے باعث اس پر پیش رفت رک گئی۔ ان اختلافات میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کا معاملہ بھی شامل ہے۔