
صدیوں سے انسان کے لیے وقت کا تعین زمین کی گردش اور سورج کی حرکات سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا کا وقت مقرر کرنے کا نظام تاریخی طور پر گرینچ آبزرویٹری اور فلکیاتی حرکات کے مطابق طے کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب سائنسدان اور وقت کا تعین کرنے والے عالمی ادارے زمین کی اس قدرتی گردش سے انسانی گھڑیوں کا تعلق توڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
سی این این کے مطابق ماہرین ایک ایسے نظام کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت زمین کی گردش اور ایٹمی گھڑیوں کے وقت میں فرق دور کرنے کے لیے گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کو ’لیپ سیکنڈ‘ کہا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں پیرس میں بین الاقوامی اوزان و پیمائش کے ادارے کی اہم بیٹھک میں ایک قرارداد پر رائے شماری کی جا رہی ہے جس کے تحت وقت کے عالمی معیار سے لیپ سیکنڈ کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
لیپ سیکنڈ کیا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟
عام طور پر ہم وقت دیکھنے کے لیے گھڑی یا موبائل فون کا سہارا لیتے ہیں، لیکن دنیا میں وقت کی پیمائش کے لیے دو مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں۔
پہلا طریقہ زمین کی گردش پر مبنی ہے۔ زمین اپنے محور پر گھومتی ہے، جس کی وجہ سے دن اور رات ہوتے ہیں۔ سورج کی پوزیشن سے بھی وقت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لندن میں واقع رائل آبزرویٹری گرین وچ تاریخی طور پر وقت کی پیمائش اور دنیا کے ٹائم زونز کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔
دوسرا طریقہ ایٹمی گھڑیوں پر مبنی ہے۔ یہ گھڑیاں ایٹموں کی قدرتی ارتعاشات کو استعمال کرتے ہوئے انتہائی درست وقت بتاتی ہیں۔ انہی گھڑیوں کی مدد سے عالمی معیاری وقت، یعنی کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم، طے کیا جاتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ زمین کی گردش ہمیشہ ایک ہی رفتار سے نہیں ہوتی۔ چاند کی کشش، زمین کے اندرونی حصوں میں تبدیلیوں اور پانی و برف کی حرکت جیسے عوامل اس کی رفتار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے زمین کی گردش سے حاصل ہونے والا وقت اور ایٹمی گھڑیوں کا وقت آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
اس فرق کو محدود رکھنے کے لیے ضرورت پڑنے پر عالمی گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا جاتا ہے۔ اسی کو لیپ سیکنڈ کہتے ہیں۔
چونکہ زمین ایک ہی رفتار سے نہیں گھومتی بلکہ اس کی گردش میں سمندری لہروں، برف پگھلنے اور دیگر قدرتی وجوہات کی بنا پر معمولی فرق آتا رہتا ہے، اس لیے ان دونوں نظاموں میں مطابقت برقرار رکھنے کے لیے 1972 سے لے کر اب تک 27 بار گھڑیوں میں ایک اضافی سیکنڈ شامل کیا گیا ہے۔
لیپ سیکنڈ سے کمپیوٹرز کو کیا مسئلہ ہوتا ہے؟
اگرچہ عام انسان کے لیے ایک سیکنڈ کا اضافہ شاید کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا ہو، لیکن جدید دور کے ڈیجیٹل نظام، انٹرنیٹ سرورز، پاور گرڈز اور ٹیلی مواصلات کے لیے یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
جب بھی گھڑیوں میں ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا ہے تو بڑی بڑی ویب سائٹس، ایئرلائنز کی بکنگ کا نظام اور ڈیٹا سینٹرز عارضی طور پر تکنیکی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں کافی عرصے سے اس نظام کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
عالمی ادارہ کیا فیصلہ کرنے جا رہا ہے؟
پیرس کے قریب واقع شہر ورسائی میں بین الاقوامی بیورو آف ویٹس اینڈ میژرز (بی آئی پی ایم) کے رکن ممالک اس معاملے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ دنیا بھر میں پیمائش کے معیارات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس ادارے کے 69 رکن ممالک کے نمائندوں کو لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی تجویز پر ووٹ دینا ہے۔ اگر اکثریت اس تجویز کی حمایت کرتی ہے تو مجوزہ تبدیلی مئی 2027 سے نافذ ہو سکتی ہے۔
اس معاملے پر کئی برسوں سے بحث جاری ہے۔ 2022 میں رکن ممالک نے ایک قرارداد کی حمایت کی تھی جس میں 2035 یا اس سے پہلے لیپ سیکنڈ کو مرحلہ وار ختم کرنے کا منصوبہ بنانے پر زور دیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق، ماضی میں بعض ممالک کو اس تبدیلی پر تحفظات تھے۔ مثال کے طور پر روس کے سیٹلائٹ نیویگیشن نظام میں لیپ سیکنڈ استعمال ہوتا ہے، جبکہ امریکا کے جی پی ایس اور یورپی یونین کے گیلیلیو جیسے نظام اس سے مختلف طریقے اپناتے ہیں۔
برطانیہ کو بھی گرین وچ کی تاریخی اہمیت کے باعث اس معاملے پر تحفظات رہے، تاہم رپورٹ کے مطابق اس کا مؤقف اب تبدیل ہو چکا ہے۔
کیا مستقبل میں ایک سیکنڈ گھٹانا بھی پڑ سکتا ہے؟
اس بحث میں ایک اور اہم پہلو زمین کی گردش کی رفتار میں تبدیلی ہے۔ طویل عرصے کے دوران زمین کی گردش کی رفتار عمومی طور پر کم ہوئی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں بعض اوقات زمین نسبتاً تیزی سے بھی گھوم رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں گھڑیوں میں ایک سیکنڈ شامل کرنے کے بجائے ایک سیکنڈ کم کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ اسے ’منفی لیپ سیکنڈ‘ کہا جاتا ہے۔
اب تک دنیا کی گھڑیوں میں اس طرح ایک سیکنڈ کم کرنے کا تجربہ نہیں کیا گیا۔ اس لیے خدشہ ہے کہ اگر یہ تبدیلی اچانک نافذ کی گئی تو ایسے کمپیوٹر نظام متاثر ہو سکتے ہیں جو وقت کے ہر لمحے کو ریکارڈ کرتے ہیں۔
بی آئی پی ایم کے مطابق، اہم ٹیکنالوجی نظام چلانے والے ادارے اس تبدیلی کے لیے بڑی حد تک تیار نہیں ہیں۔ ان نظاموں کو تیار کرنے پر بھاری اخراجات بھی آ سکتے ہیں۔
کیا لیپ سیکنڈ ختم ہونے سے دن چھوٹے یا بڑے ہو جائیں گے؟
لیپ سیکنڈ ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کی گردش یا دن اور رات کی مدت اچانک بدل جائے گی۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ عالمی گھڑیوں کا وقت زمین کی گردش کے ساتھ ہر چند سال بعد ایک سیکنڈ کی تبدیلی کے ذریعے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا۔
اس تجویز کے تحت ایٹمی گھڑیوں کے وقت کو مسلسل چلنے دیا جائے گا، چاہے وہ زمین کی گردش سے حاصل ہونے والے وقت سے بتدریج مختلف ہوتا جائے۔
مجوزہ نظام میں اس فرق کی زیادہ سے زیادہ حد ایک گھنٹہ رکھنے کی تجویز ہے۔ بی آئی پی ایم کی وقت سے متعلق شعبے کی سربراہ پیٹریزیا ٹیویلا کے مطابق، اس فرق کو ایک گھنٹے تک پہنچنے میں 3 ہزار سال سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔
اس مرحلے پر مستقبل کی نسلوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وقت کے اس فرق کو دور کرنے کے لیے ایک گھنٹے کی بڑی تبدیلی کی جائے، جسے بعض ماہرین ’لیپ آور‘ کا نام دے رہے ہیں۔
بعض ماہرین اس تبدیلی کے حق میں کیوں نہیں؟
یونیورسٹی کالج لندن کے خلائی جغرافیہ کے ماہر ماریک زیبارٹ کا کہنا ہے کہ لیپ سیکنڈ شامل کرنے سے متعلق تکنیکی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ نظام کام کر رہا ہے اور اس سے عالمی وقت کا زمین کی گردش کے ساتھ تعلق برقرار رہتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر لیپ سیکنڈ ختم کیا گیا تو بہت سے اداروں کو اپنے سافٹ ویئر کی جانچ، تبدیلی اور دوبارہ تیاری کرنا پڑے گی۔ اس لیے موجودہ نظام کو ختم کرنے کے اپنے مسائل بھی ہیں۔
گرین وچ کی رائل آبزرویٹری کی سینئر کیوریٹر لوئس ڈیووئے کے مطابق، زیادہ تر لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اس تبدیلی کا براہ راست فرق محسوس ہونے کا امکان کم ہے۔ لوگ معمول کے مطابق دن اور رات کے اوقات میں اپنے کام کرتے رہیں گے، لیکن ٹیکنالوجی کے پس منظر میں وقت کا حساب رکھنے کا طریقہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی بحث اس سوال سے جڑی ہے کہ دنیا کے لیے زیادہ اہم کیا ہے؟ زمین کی قدرتی گردش کے ساتھ گھڑیوں کا وقت ملانا یا جدید ٹیکنالوجی کے لیے زیادہ مستحکم اور مسلسل وقت برقرار رکھنا۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ عالمی ادارے کے ووٹ اور آئندہ طے کیے جانے والے اقدامات پر منحصر ہوگا۔