اب ناکامی کی گنجائش نہیں، لوگ خوش ہوئے تو گورنرکے پی کو سر کا تاج بنا لیں گے: فیصل واوڈا


سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگنے کا امکان آج بھی موجود ہے، جس کا اظہار وہ دس ماہ پہلے بھی کر چکے ہیں۔ ان کے بقول یہ ان کا تجزیہ ہے، خبر نہیں۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد 180 دن میں کارکردگی دکھانے کو اہم قرار دیا۔
آج نیوز کے پروگرام ’روبرو‘ میں میزبان شوکت پراچہ سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ انہوں نے دس ماہ قبل بھی پی ٹی آئی پر پابندی لگنے کا امکان ظاہر کیا تھا اور آج بھی انہیں یہی دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کا تجزیہ اور سوچ ہے، خبر نہیں۔ ان کے مطابق علم نجوم کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی کی پالیسیاں غلط تھیں، تاہم پوری جماعت کو دہشت گردی میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ اس کے بہت سے لوگوں نے بھی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور ان کی کوئی حیثیت نہ ہونے کے باوجود وہ بڑے لوگوں سے جواب طلب کر لیتے ہیں، جسے وہ اللہ کا کرم سمجھتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی صورت حال اور گورنر راج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کو کارکردگی دکھانے کے لیے 180 دن دیے گئے ہیں اور اب ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے بقول گورنر پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے اقدامات کر رہے ہیں، جس سے لوگ خوش ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گورنر صوبے کے عوام کو سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو لوگ انہیں سر کا تاج بنا لیں گے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے عوام حکومتی کارکردگی سے بیزار ہیں اور انہیں اب تک وہ سہولتیں نہیں مل سکیں جن کی توقع کی جا رہی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بچوں کو تعلیم اور بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں تو سیاسی قیادت اپنی کارکردگی کا دفاع کیسے کرے گی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ صوبہ کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں اور عوام کو نتائج دینا ضروری ہے۔ ان کے بقول اب صورت حال ایسی ہے کہ کارکردگی دکھائے بغیر آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نہیں۔

پی ٹی آئی کے حوالے سے فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کے خیال میں جماعت کے اندر ایک ایسا عنصر موجود تھا جو اسے کنٹرول کرنے کے ساتھ اس کی سمت بھی طے کرتا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پوری پارٹی کو دہشت گردی میں ملوث قرار نہیں دیا جا سکتا، کیوں کہ اس کے بہت سے مخلص افراد نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے مخلص کارکنوں اور رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی الگ سیاسی جماعت بنائیں، چاہے اس کا نام پی ٹی آئی پاکستان رکھ لیں یا کوئی اور نام اختیار کریں۔
فیصل واوڈا نے دہشت گردوں سے مذاکرات کی پالیسی کو بانی پی ٹی آئی کی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرزِ عمل کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے بارے میں انہیں زیادہ معلومات نہیں، تاہم انہیں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کے پیچھے اور دیگر واقعات کے پیچھے ایک ہی اسکرپٹ رائٹر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہے اور جن عناصر کی معاونت کی جا رہی تھی، ممکن ہے اب ان تک پہنچنے کا وقت آگیا ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی پرچم اور قومی ترانے پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی علامتوں کے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔
فیصل واوڈا نے فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کے حامی ہیں، لیکن ایسی جمہوریت کی حمایت نہیں کرتے جو عوام کو نتائج نہ دے سکے۔ ان کے بقول ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی اور دفاع کے محاذ پر فوج کا کردار اہم رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو زیادہ وسائل فراہم کیے جانے کے باوجود عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے، جب کہ فوج دفاعی بجٹ کے محدود وسائل میں بھی بہت زیادہ کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف جنگ اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کے معاملے میں فوج کو کریڈٹ ملنا چاہیے۔
انہوں نے فوج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ادارے نے ملک کے لیے کام کیا ہے تو اس کی تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سیاسی نظام میں تبدیلی سے متعلق اپنی اصطلاح ’’ری بوٹ‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ نہ مارشل لا آ رہا ہے اور نہ ہی کوئی اور طرزِ حکومت نافذ ہونے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارکردگی دکھانا ہوگی، ورنہ عوام سیاست دانوں کو باہر نکال دیں گے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون کو ری بوٹ کرنے پر کچھ چیزیں ختم ہوتی ہیں اور بعض نئے پروگرام شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کے بقول سیاسی نظام میں بھی ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے اس کی خامیاں دور اور کارکردگی بہتر بنائی جائے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ جمہوری نظام کو چلانے کے لیے فوج یا اسٹیبلشمنٹ کو جو کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے، وہ اس کی علامت ہے کہ سیاست دانوں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے سوال پر فیصل واوڈا نے انہیں بڑا سیاسی رہنما اور استاد قرار دیا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری کا ذکر کرتے ہوئے بھی کہا کہ ان دونوں شخصیات سے سیاست میں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اور ان کے ساتھ ان کا احترام کا رشتہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب جمہوری عمل اور مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ذاتی اور سیاسی تعلقات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا کے عوام کو سہولتیں ملنا شروع ہوجائیں تو مولانا فضل الرحمان خوش ہوں گے اور وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے مذاکرات کی تجویز سے متعلق سوال پر فیصل واوڈا نے کہا کہ ان کے خیال میں مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف گورنر راج نافذ کیا جائے اور دوسری طرف مذاکرات کی بات ہو تو یہ جمہوریت کا اپنا انداز ہے۔
عدالتی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ عدالتی ترامیم کے ذریعے انصاف لوگوں کو ان کی دہلیز پر مل سکے گا۔ ان کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سیکیورٹی بنیادی شرط ہے اور اگر سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے تو وہ یہاں آنے میں دل چسپی لیں گے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ سیاسی تقسیم اور پولرائزیشن ختم کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ ان کے بقول پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے سیاسی قیادت کی کارکردگی، امن اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles