
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت منسوخ کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل یا اعتراض دائر کرنے کی مہلت 30 دن سے کم کرکے 10 روز کر دی ہے۔ بدھ سے نافذ ہونے والی اس پالیسی پر پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس اقدام سے ایسے ہزاروں افراد کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنہوں نے آبائی ممالک میں جنگ، تشدد اور ظلم و ستم سے بچنے کے لیے امریکا میں پناہ حاصل کی تھی۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت متاثرہ پناہ گزینوں کے پاس اپنا مؤقف پیش کرنے یا فیصلے کے خلاف اعتراض دائر کرنے کے لیے صرف روز ہوں گے۔
امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کو ملک سے بےدخل کرنا ہے جنہیں قانونی طور پر اہل نہ ہونے کے باوجود پناہ دی گئی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری دستاویز میں اس فیصلے کی زد میں آنے والے افراد کی تعداد نہیں بتائی گئی، تاہم اس میں سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں امریکا آنے والے پناہ گزینوں کا خصوصی ذکر موجود ہے۔
امریکا میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی پالیسی کو کئی دہائیوں سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ 1980 میں امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت سے ’ریف یوجی ایکٹ‘منظور کیا تھا، جس کے تحت پناہ گزینوں کی درخواستوں کی سخت جانچ پڑتال کا نظام قائم کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی کی موجودہ انتظامیہ بائیڈن دور میں پناہ گزینوں کے پروگرام کے طریقہ کار کو تشویش ناک قرار دینے کے بعد اس عرصے میں امریکا آنے والے کم از کم ایک لاکھ 85 ہزار ایسے پناہ گزینوں کے مقدمات کا جائزہ لے رہی ہے، جن کی گرین کارڈ کی درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردِعمل
اس نئی پالیسی پر پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیموں نے شدید اعتراض کا اظہار کیا ہے۔
گلوبل ریفیوج نامی تنظیم کی صدر کرش او مارا ویگناراجا کا کہنا ہے کہ امریکا میں پناہ حاصل کرنے والے خاندانوں تمام مطلوبہ مراحل مکمل کرنے، بیرونِ ملک طویل انتظار اور امریکی حکام کی منظوری کے بعد ہی ملک میں داخل ہوئے تھے۔
ان کے مطابق امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے دی گئی 10 روزہ مہلت وکیل تلاش کرنے، دستاویزات کا ترجمہ کروانے اور آبائی ممالک سے ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے اور بہت سے پناہ گزینوں کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور تنظیم ’ایچ آئی اے ایس‘ کی نائب صدر نومی اسٹین برگ نے کہا کہ اس اقدام سے پناہ گزینوں کی آبادکاری کے بنیادی اصول کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت انہیں مستقل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف کیا ہے؟
امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کے ترجمان زیک کیلر نے نئی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں جانچ پڑتال اور تصدیق کے طریقہ کار میں خامیوں کی تصدیق کی ہے۔
ان کے مطابق درخواستوں پر تیزی سے کارروائی کرنے اور زیادہ سے زیادہ پناہ گزینوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے اس عمل کو متاثر کیا گیا۔ زیک کیلر کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ صرف ان ہی پناہ گزین کو قانونی حیثیت دی جائے جو واقعی اس کے اہل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی امیگریشن نظام میں پناہ گزین (Refugee) اور سیاسی پناہ حاصل کرنے والے فرد (Asylee) کی قانونی حیثیت مختلف ہے۔
پناہ گزین وہ افراد ہوتے ہیں جو امریکا آمد سے پہلے کسی دوسرے ملک سے پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ درخواستوں کی جانچ پڑتال اور منظوری کے بعد انہیں امریکا آنے کی اجازت دیتی ہے۔ امریکا پہنچنے کے بعد وہ گرین کارڈ کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
اس کے برعکس ایسے افراد جو امریکی سرحد پر پہنچنے کے بعد یا امریکا میں موجودگی کے دوران سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ انہیں طویل مراحل سے گزرنے کے بعد درخواست منظور ہونے کی صورت میں ’سیاسی پناہ گزین‘ یا ’اسائلی‘ کہا جاتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ 2027 میں ملک میں داخلے کی اجازت پانے والے پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 17 ہزار 500 تک محدود رکھی جائے گی، جن میں اکثریت جنوبی افریقہ کے سفید فام شہریوں کی ہوگی۔
ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی ہر سال امریکا آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔ بعد ازاں بائیڈن انتظامیہ نے اس تعداد میں اضافہ کیا اور اپنے دور کے آخری سال میں ایک لاکھ 25 ہزار پناہ گزینوں کو امریکا میں پناہ دینے کا ہدف مقرر کیا تھا۔
دوسری مدت کے لیے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ٹرمپ نے پناہ گزینوں کا پروگرام فوری طور پر معطل کر دیا تھا، جس کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ایسے افراد کی امریکا آمد رک گئی تھی جنہیں امریکا کی پناہ کی منظوری مل چکی تھی۔ بعد میں انتظامیہ نے پروگرام دوبارہ شروع کیا، تاہم اس کا دائرہ زیادہ تر جنوبی افریقہ کے سفید فام شہریوں تک محدود ہے۔