
بینکاک میں منعقدہ ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر 30 سے زائد ترقی پذیر ممالک پر مشتمل نئے تشکیل شدہ ’بارورز پلیٹ فارم‘ کی گورننگ کونسل کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کو متفقہ طور پر کونسل کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصول سنجیدہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ملک کی جانب سے اس عہدے کی ذمہ داریاں قبول کر لی ہیں۔
اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ایک ”بڑے معاشی طوفان“ کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ترقی پذیر ممالک اوسطاً اپنی کُل آمدنی کا تقریباً 9.5 فیصد حصہ صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہے ہیں، جو کہ سن 2001 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مصر کی سابقہ قیادت اور رکن ممالک کی کوششوں کو سراہا اور واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم اجتماعی بارگیننگ یا بحران سے نمٹنے کے عارضی طریقہ کار کے بجائے باہمی تعلیم اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے سال 2026-27 کے منصوبے کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ہدف قرضوں کے بہتر انتظام، اصلاحاتی تجربات کا تبادلہ اور ترقیاتی مالیات کے جدید ذرائع کی تلاش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قرض کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے بجائے ترقی کا ذریعہ ہونا چاہیے۔
بینکاک میں میڈیا اور اعلیٰ حکام سے گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف کی فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے اقتصادی استحکام اور ساختی اصلاحات پر مثبت بات چیت ہوئی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، افراطِ زر میں کمی اور مائیکرو اکنامک استحکام کو سراہا ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے ’وی 20‘ کے وزرا کے ڈائیلاگ میں شرکت کی اور موسمیاتی تبدیلیوں اور قرضوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے تکنیکی و مالیاتی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔