
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مستقبل کے ممکنہ واقعات کی پیش گوئی کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دنیا بھر کے اسٹارٹ اپس اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری سے لے کر عالمی تنازعات، حکومتی پالیسیوں اور کاروباری فیصلوں تک، اے آئی نظام ممکنہ نتائج کے اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جدید اے آئی ماڈلز اب صرف دستیاب معلومات کی بنیاد پر سوالات کے جواب نہیں دیتے بلکہ مستقبل سے متعلق اہم سوالات خود بھی تیار کر سکتے ہیں اور مختلف نتائج کے امکانات کا تخمینہ لگا سکتے ہیں۔ اس عمل میں ایسے عوامل کو بھی یکجا کیا جا سکتا ہے جن کا بظاہر ایک دوسرے سے براہ راست تعلق نہ ہو، مثلاً تیل کی قیمتوں میں تبدیلی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے ممکنہ اثرات۔
پیش گوئیوں سے متعلق کمپنی فیوچر سرچ کے شریک بانی ڈین شوارز کا کہنا ہے کہ 2030 تک فیصلہ سازی کے روایتی طریقے آج کے مقابلے میں انتہائی پرانے محسوس ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی ماڈلز بڑی مقدار میں عوامی اور نجی معلومات کا تجزیہ کرکے بعض معاملات میں انسانی ماہرین کے برابر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
پیش گوئی کے مقابلوں میں اے آئی کی کامیابی
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آغاز میں میٹاکیولس کپ کے مقابلے میں دو اے آئی ماڈلز نے پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں انسانوں اور اے آئی پر مبنی نظاموں کی پیش گوئیوں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاتا ہے۔
اس طرح کی کامیابیاں اے آئی پر مبنی پیش گوئیوں میں بڑھتی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔ تاہم کسی مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی ہر صورت حال میں درست پیش گوئی کر سکتی ہے۔ مستقبل کے واقعات پر سیاسی فیصلوں، اچانک پیدا ہونے والے بحرانوں اور غیر متوقع تبدیلیوں کا اثر پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے اندازے غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری میں اے آئی کا استعمال
اے آئی پر مبنی پیش گوئیوں کا استعمال مالیاتی شعبے میں بھی بڑھ رہا ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بعض ہیج فنڈز، یعنی ایسے سرمایہ کاری فنڈز جو مختلف حکمت عملیوں کے ذریعے منافع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سرمایہ کاری کے فیصلوں میں اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ اور مستقبل کے ممکنہ نتائج پر مبنی تجارتی پلیٹ فارمز میں بھی ان نظاموں کا کردار بڑھ رہا ہے۔
اے آئی نظام بڑی مقدار میں مالیاتی اعداد و شمار، مارکیٹ کے رجحانات اور دیگر متعلقہ معلومات کا تیزی سے تجزیہ کرکے سرمایہ کاروں کو ممکنہ مواقع اور خطرات کی نشاندہی کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس سے فیصلے کرنے میں وقت کم لگ سکتا ہے، تاہم پیش گوئی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کرنے میں نقصان کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ مہنگے اے آئی ٹولز تک رسائی نہ رکھنے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے مقابلہ مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اگر بڑے مالیاتی ادارے زیادہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر معلومات کی مدد سے فیصلے کریں تو ان کے مقابلے میں محدود وسائل رکھنے والے سرمایہ کار پیچھے رہ سکتے ہیں۔
حکومتوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھی مددگار
اے آئی پر مبنی پیش گوئیوں کا استعمال صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومتیں پالیسی سازی، کاروباری ادارے مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے، محققین سائنسی تحقیق اور انشورنس کمپنیاں ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے کے لیے بھی ان ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
مثال کے طور پر حکومتیں مختلف معاشی یا سماجی پالیسیوں کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے اے آئی کی مدد لے سکتی ہیں، جبکہ کمپنیاں طلب میں تبدیلی، اخراجات اور مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لے کر اپنے کاروباری فیصلوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ برطانوی حکومت بھی پیش گوئیوں سے متعلق ایک کمپنی کی خدمات استعمال کر چکی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اداروں کو ممکنہ مسائل کی پہلے سے نشاندہی کرنے اور مختلف حالات کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم اس کے نتائج کا انحصار دستیاب معلومات کے معیار، اے آئی ماڈل کی صلاحیت اور اس کے تجزیے کے طریقہ کار پر بھی ہوتا ہے۔
اے آئی کی صلاحیتوں کے ساتھ نئے خدشات
اے آئی کے ذریعے پیش گوئی کرنے کی صلاحیت بڑھنے کے باوجود ماہرین اس کے ممکنہ خطرات کی جانب بھی توجہ دلا رہے ہیں۔ ان میں جدید اے آئی نظاموں تک غیر مساوی رسائی اور مختلف ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں میں فرق اہم ہیں۔
اگر کچھ ممالک یا ادارے زیادہ طاقتور اے آئی نظاموں اور وسیع معلومات تک رسائی حاصل کر لیں تو مالیاتی منڈیوں، کاروباری مقابلے اور تزویراتی فیصلوں میں ان کی برتری بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی کی غلط پیش گوئیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار بھی نقصان دہ فیصلوں کا سبب بن سکتا ہے۔
مجموعی طور پر اے آئی مستقبل کے ممکنہ حالات کو سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے کے لیے ایک اہم ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ تاہم یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی یقینی خبر نہیں دیتی بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر امکانات کا اندازہ لگاتی ہے۔ اس لیے اس کی پیش گوئیوں کو انسانی مہارت، حالات کے درست تجزیے اور دیگر قابل اعتماد معلومات کے ساتھ دیکھنا بحرحال ضروری ہے۔