
پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاک فضائیہ کے طیاروں کے استعمال ہونے سے متعلق خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے غلط ہیں۔ بیان کے مطابق عالمی میڈیا کو قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کرنا چاہیے۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز میں بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کے تناظر میں یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی ملیشیا کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کا تذکرہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں ایک اور پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے بتایا ہے کہ یمن کے تنازع میں پاکستان کا کردار زمینی کارروائی کے بجائے فضائی معاونت تک محدود رہنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات نے عالمی میڈیا کو مسلح افواج سے متعلق کسی بھی قسم کی قیاس آرائی سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی پیش رفت ہوئی تو متعلقہ حکام خود میڈیا کو آگاہ کریں گے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ان دھماکوں کی وجہ کیا تھی۔
اس سے ایک روز قبل سعودی حکام نے تصدیق کی تھی کہ حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے دو ایئرپورٹس پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں دو خواتین ہلاک اور 28 افراد زخمی ہوئے، جبکہ کنگ خالد ایئرپورٹ پر ایک سوڈانی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
حوثی ملیشیا کے ترجمان یحییٰ سریع نے ان دونوں ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف سرگرم یمنی فوجی اتحاد نے بدھ کے روز ایک بیان میں سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کے جواب میں حوثیوں کے درجنوں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
سعودی حمایت یافتہ فوجی اتحاد کے مطابق حوثیوں پر حملوں میں ان کے میزائلوں کے ذخائر سمیت دیگر اہم تنصیبات اور کمانڈ سینٹرز کو تباہ کیا گیا ہے۔
یمن کے شمال میں واقع بیشتر علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر اس وقت حوثی ملیشیا کا کنٹرول ہے۔ حوثیوں نے جولائی میں شروع ہونے والے تازہ تنازعے کے دوران گزشتہ ماہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر قبضہ کرلیا تھا۔
رواں ہفتے یمنی حکومت نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس کا باقاعدہ اعلان 5 اکتوبر کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کیا۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ملک کے اہم ترین بحری راستوں اور دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول بحال کرنا ہے۔
یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی اس لڑائی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی یمن کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خطرناک اور تشویش ناک قرار دیا ہے۔