
آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک ایسی ساختی مجبوری کو بے نقاب کر دیا ہے جس کا حل آسان نہیں ہے۔ اگرچہ متبادل راستے موجود ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ کبھی اس اہم راہداری کا مکمل نعم البدل بننے کے قابل ہیں؟
آبنائے ہرمز صرف ایک گزرگاہ نہیں بلکہ خلیج عرب سے کھلے سمندر تک جانے والا واحد بحری راستہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کا تقریباً 20 سے 25 فیصد سمندری تیل اور 20 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) روزانہ یہاں سے گزرتی ہے۔ اسی لیے یہاں معمولی سی رکاوٹ بھی عالمی سطح پر قیمتوں میں فوری اضافے کا باعث بنتی ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے موجودہ بندش کو تاریخ میں تیل کی فراہمی کا سب سے بڑا تعطل قرار دیا ہے۔ ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول کے مطابق یہ تاریخ کا سب سے بڑا توانائی کا بحران ہے۔
منڈیوں میں اس خدشے کے پیش نظر کہ خلیج سے سپلائی طویل عرصے تک رکی رہ سکتی ہے، خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس صورتحال میں سعودی عرب کی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ خطے کا واحد نظام ہے جو بڑے پیمانے پر برآمدات کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن یومیہ 70 لاکھ بیرل تیل لے جا سکتی ہے، حالانکہ بندرگاہ کی حدود کی وجہ سے عملی طور پر یہ صلاحیت 45 لاکھ بیرل کے قریب ہے۔ لیکن یہاں سے نکلنے والے ٹینکرز کو بحیرہ احمر میں باب المندب جیسے ایک اور پرخطر مقام سے گزرنا پڑتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ خطرہ کم تو ہوتا ہے لیکن مکمل ختم نہیں ہوتا۔
متحدہ عرب امارات کا ماڈل جغرافیائی طور پر آبنائے ہرمز سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایڈنوک کی ’حبشان فجیرہ پائپ لائن‘ تیل کو براہ راست عمان کے ساحل پر واقع فجیرہ تک پہنچاتی ہے۔
یہ راستہ آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر بچ نکلنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس کی گنجائش یومیہ صرف 15 سے 18 لاکھ بیرل ہے جو خلیج کی مجموعی برآمدات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
دوسری جانب عراق کی صورتحال مختلف ہے جہاں اس کے پاس متبادل راستوں کی کمی ہے۔
عراق نے ترکیہ تک جانے والی پائپ لائن اور شام کے راستے زمینی ترسیل جیسے چھوٹے راستوں پر تکیہ کیا ہوا ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی آبنائے ہرمز کا متبادل نہیں بن سکتا۔
خود ایران نے بھی ’گورہ جاسک‘ پائپ لائن کے ذریعے اپنا راستہ بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن آئی ای اے کے مطابق جاسک ٹرمینل ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ متبادل راستوں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ ان کی محدود گنجائش ہے۔ روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جو تمام متبادل پائپ لائنوں کی مجموعی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔
اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایل این جی کی بڑی مقدار کے لیے تو کوئی متبادل راستہ موجود ہی نہیں ہے۔
عراق سے اردن یا عمان تک نئی پائپ لائنوں کے منصوبے کئی دہائیوں سے زیرِ بحث ہیں لیکن مالیات، سیکیورٹی اور سیاسی ہم آہنگی کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔
جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال نہیں ہوتا، عالمی منڈیوں میں رسد کی کمی اور قیمتوں کا دباؤ برقرار رہے گا کیونکہ فی الحال دنیا کے پاس اس ’گلے کی رگ‘ کا کوئی مکمل متبادل موجود نہیں ہے۔