
اسلام آباد میں تیل ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری کو اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کرنا پڑ گیا، جس سے خام تیل کی فراہمی اور تیار مصنوعات کی ترسیل شدید متاثر ہو گئی ہے۔
اٹک ریفائنری لمیٹیڈ نے اعلان کیا ہے کہ ٹینکرز کی بندش کے باعث اس نے اپنا مرکزی کروڈ ڈسٹلیشن یونٹ بند کر دیا ہے، جس کی یومیہ گنجائش 32 ہزار 400 بیرل ہے۔
ریفائنری نے صورتحال سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ کمپنی کے نوٹس کے مطابق ٹینکرز کی نقل و حرکت معطل ہونے سے خام تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
نوٹس میں بتایا گیا کہ سڑکوں کی بندش کے باعث خام تیل کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ریفائنری آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں۔
کمپنی کے مطابق تیار مصنوعات، خصوصاً موٹر اسپرٹ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ترسیل میں بھی شدید رکاوٹ کا سامنا ہے، جبکہ ترسیلی مسائل کے باعث ان مصنوعات کے ذخائر میں اضافہ ہو گیا ہے۔
اٹک ریفائنری کا کہنا ہے کہ لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث آئل سپلائی چین دباؤ کا شکار ہو رہی ہے، جس سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اٹک ریفائنری کی بنیاد 8 نومبر 1978 کو ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی، جسے 26 جون 1979 کو پبلک کمپنی میں تبدیل کیا گیا۔ یہ کمپنی بنیادی طور پر خام تیل کی ریفائننگ کے شعبے میں کام کرتی ہے۔
یہ ادارہ اٹک آئل کمپنی لمیٹڈ (انگلینڈ) کی ذیلی کمپنی ہے، جبکہ اس کی حتمی پیرنٹ کمپنی کورل ہولڈنگ لمیٹڈ ہے، جو مالٹا میں رجسٹرڈ ایک پرائیویٹ کمپنی ہے۔