
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ کامیابی اور کانگریس پر کنٹرول کے لیے متبادل منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبے مہینوں کی تیاری پر مبنی ہیں جن کے تحت ممکنہ تحقیقات اور رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کانگریس کی منظوری کے بغیر ایگزیکٹیو پاورز (صدارتی اختیارات) کے ذریعے اہم فیصلے لیے جاسکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس منصوبے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر اور بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ سمیت سینئر حکام ایسے اقدامات کی نشاندہی میں مصروف ہیں جنہیں صدر ٹرمپ کانگریس کی منظوری کے بغیر استعمال کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات میں امیگریشن، ٹیرف، ہاؤسنگ اور وفاقی فنڈز کے استعمال جیسے اہم معاملات شامل ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو مڈٹرم انتخابات ہیں اور پولز ڈیموکریٹس کی کامیابی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں کامیابی کے لیے بہتر پوزیشن میں دکھایا جا رہا ہے جب کہ سینیٹ کے نتائج کے بارے میں صورت حال اب بھی غیر یقینی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان تمام جائزوں اور ری پبلکنز کی ممکنہ شکست کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا پر غلط تاثر پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ٹرمپ گزشتہ کانگریس میں ریپبلکنز کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے ایک ماہ سے ملک بھر میں انتخابی جلسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ تاہم ان کے معاونین 2027 میں ممکنہ طور پر تبدیل ہونے والی سیاسی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری میں مشغول ہیں۔
اگر ڈیموکریٹس انتخابات میں کامیاب اور کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے، قانون سازی کو روکنے اور اخراجات کو محدود کرنے کا اختیار مل جائے گا۔
تاہم تجارت، خارجہ پالیسی اور وفاقی بیوروکریسی پر وسیع انتظامی اختیار برقرار رہیں گے جسے صدر ٹرمپ پہلے ہی اپنے دوسرے دور میں جارحانہ انداز میں استعمال کرتے آئے ہیں۔
کانگریس پر غلبے کی صورت میں ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ قانون سازی کی منظوری دینے سے بھی انکار کر سکتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ بھی ڈیموکریٹس کے پیش کردہ ایسے قوانین کو ویٹو کر سکتے ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرتے۔ ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان میں اتنی نشستیں حاصل کرنا مشکل نظر آرہا ہے جس سے کہ وہ صدر کے ویٹو کو ختم کر سکیں۔
صدر ٹرمپ اپنےایک حالیہ انٹرویو خود اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ’اگر ڈیموکریٹس مڈٹرم جیتے تو وہ مسٹر ویٹو بن سکتے ہیں۔‘
ٹرمپ انتظامیہ کی ایک ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ ٹرمپ قانونی طور پر اپنے اختیارات کی حدود کو کیسے وسیع کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ ان فیصلوں کا عدالت میں دفاع کیسے کیا جا سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس منصوبے سے واقف ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومتی ادارے بھی ایسی تجاویز اور قانونی جائزے وائٹ ہاؤس کو پیش کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر فیصلے کر سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ کو ان تیاریوں سے آگاہ کیا جا چکا ہے اور وہ خود بھی ان معاملات پر ہونے والی مشاورت میں شریک رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے سے واقف ایک عہدیدار سے پوچھا گیا کہ کیا ٹرمپ کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے باوجود صدارتی اختیارات کے ذریعے حکومت چلانے میں خود کو مطمئن محسوس کریں گے تو اس کا جواب تھا ’بہت زیادہ۔‘
اگر ایسا ہوا تو یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوگا کیوں کہ جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صدر ٹرمپ متعدد مرتبہ صدارتی اختیارات کا ہتھیار استعمال کرچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری یا کسی قانون سازی کے بغیر وسیع پیمانے پر کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے، سخت امیگریشن کارروائیاں شروع کیں، وفاقی ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کیے اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم فیصلے کیے، جن میں ایران جنگ بھی شامل ہے۔
غیر جانب دار سیاسی تجزیاتی ادارے اِن سائیڈ الیکشنز کے مدیر نیتھن گونزالس کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ دو برسوں میں بڑی حد تک کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے ’ایگزیکٹیو آرڈرز‘ کے ذریعے اہم فیصلے لینے کی کوشش کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ اسی طرزِ حکمرانی کو مزید جاری رکھ سکتے ہیں۔
تاہم کانگریس کی تحقیقات ایک ایسا معاملہ ہے جس سے ٹرمپ انتظامیہ صرف صدارتی اختیارات استعمال کر کے نہیں بچ سکتی۔ ان تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیارات اپنے ذاتی مفادات، قریبی ساتھیوں یا مالی معاونین کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیے یا نہیں؟
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے معاونین گزشتہ کئی ماہ سے ایسی ممکنہ تحقیقات سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس منصوبے سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قانونی ماہرین سیاسی بنیادوں پر مقرر کیے گئے عہدیداروں اور مختلف سرکاری اداروں کے سربراہوں کو کانگریس کی پوچھ گچھ، دستاویزات کی طلبی اور عدالتی سمن سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دے رہے ہیں۔
حکام کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ تحریری طور پر کوئی بات درج کرتے وقت احتیاط کریں۔
یوں اگر ڈیموکریٹس وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کو نہ صرف قانون سازی اور سرکاری تقرریوں میں سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ان کی انتظامیہ کو کانگریس کی تحقیقات کا بھی جواب دینا ہوگا۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس صدارتی اختیارات کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھنے کے لیے قانونی اور انتظامی راستوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔