ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے دوحہ میں مذاکرات تیسرے روز بھی جاری

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایران اور قطر کے درمیان دوحہ میں مذاکرات مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ ایرانی مذاکرات کار قطری ثالثوں کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بات چیت کررہے ہیں تاہم اب تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ایران نے آبنائے ہرمز 2 روز میں کھولنے کا منصوبہ پیش کردیا، جس پر عمل درآمد امریکی شرائط پوری کرنے سے مشروط ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی مذاکرات کاروں اور قطری ثالثوں کے درمیان ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جنگ ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات مسلسل تیسرے روز میں داخل ہوگئے ہیں تاہم اب تک کسی حتمی نتیجے یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے مطابق سفارتی کوششوں کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے تک پہنچنا ہے۔ یہ رابطے واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطوں کے ذریعے آگے بڑھائے جارہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی تصدیق کی ہے کہ قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت میں پیش رفت ہورہی ہے تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کا انحصار امریکا کی جانب سے ایران کے سوالات کے جوابات پر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران دفاع اور سفارتکاری دونوں کے لیے تیار ہے اور امید ہے کہ دوسرا فریق دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتکاری کو دوسرے راستوں پر ترجیح دے گا۔

آبنائے ہرمز دو روز میں کھولنے کا منصوبہ کیا ہے؟

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دو روزہ منصوبہ تیار کیا ہے، جس پر قطر کی ثالثی میں مشاورت جاری ہے۔

عراقچی نے بتایا کہ ایران کی ابتدائی تجویز میں آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات روز کا وقت رکھا گیا تھا تاہم قطری ثالثوں نے اسے کم کرکے پانچ روز کرنے کی تجویز دی، جس کے بعد اب عمل درآمد کی مدت دو روز کرنے پر اتفاق رائے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

منصوبے کے مطابق امریکا کو پہلے روز متعدد طے شدہ اقدامات کرنا ہوں گے، جس کے بعد دوسرے روز آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور بحری آمدورفت بحال ہوجائے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد امریکی جانب سے ایران کی شرائط قبول کرنے اور اپنے وعدوں پر عمل کرنے سے مشروط ہے، حتمی نتیجہ امریکا کے جواب پر منحصر ہوگا۔

ایران کے امریکا سے اہم مطالبات کیا ہیں؟

الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کھولنے کے منصوبے کے ساتھ ایران کے متعدد مطالبات بھی بیان کیے ہیں۔ ایران کے مطالبات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد کی گئی امریکی پابندیوں کا خاتمہ، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی چھوٹ کی بحالی اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔

ایران نے قطر میں موجود اپنے منجمد اثاثوں سمیت تمام رقوم کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران آبنائے ہرمز میں ایران اور عمان کے درمیان زیر بحث بحری راستوں کو تسلیم کرنے اور دیگر متبادل راستے بند کرنے کا بھی مطالبہ کررہا ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کو ایرانی شرائط کے مطابق دوبارہ کھولنے سے امریکا کے ساتھ دیگر زیر التوا معاملات پر مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔

3 نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد جنگ میں شدت کا خدشہ

دوحہ میں مذاکرات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب 3 نومبر کو امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی اور جنگ میں شدت آنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکا انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملے نہیں کرے گا۔ انہوں نے تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیا ہے تاہم انتخابات کے بعد مزید فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت اچھی سمت میں جارہی ہے تاہم امریکا کو ایران میں بعض اہداف سے نمٹنا باقی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا اور وہ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق سفارتی حل کی صورت میں امریکا مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے ہفتے کے روز مسلح افواج کو کسی بھی ممکنہ حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی تھی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے فوجی کمانڈروں کو مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنانے اور ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دینے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد ایرانی فوج نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کا اعلان کیا۔

عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 جنگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی مسلح افواج پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکی ہیں اور ملک دفاع کے ساتھ سفارتکاری کے لیے بھی تیار ہے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سفارتی کوششیں

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں قطر کے ساتھ پاکستان بھی ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔ قطری وفد نے جمعے کو تہران میں ایرانی حکام سے طویل مشاورت کی، جس کے بعد مذاکرات کا سلسلہ دوحہ منتقل ہوا۔

الجزیرہ کے مطابق پاکستانی اور قطری ثالث بھی ایرانی شرائط سے متعلق مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھی جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ قطر جانے والا ایرانی وفد نائب وزیر خارجہ کی سطح پر تھا اور اس دورے کا مقصد قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کو آگے بڑھانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں تھا۔

8 ماہ سے جاری جنگ کے عالمی اثرات

یاد رہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگ کو تقریباً 8 ماہ گزر چکے ہیں۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور توانائی کی مصنوعات دیگر ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے باعث عالمی توانائی بحران مزید سنگین ہوا ہے جب کہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہورہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی اور ایرانی حکام کے بیانات سے واضح ہے کہ دونوں فریق سفارتکاری کے ساتھ ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایسے میں دوحہ میں جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کھولنے کی دو روزہ تجویز کو جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے، تاہم معاہدے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles