
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کو غیر ریاستی عناصر چلا رہے ہیں اور یہ ایک رجیم ہے، افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے اور کرائے کے جنگجو استعمال کر رہے ہیں، افغان طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔
برطانوی عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو گزشتہ روز 30 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا اسپانسر ہے جب کہ افغان طالبان رجیم بھارت کی پراکسی کے طور پر کام کررہی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی ہیں، افغان طالبان اپنے مقاصد کے لیے غیر ریاستی عناصر اور کرائے کے جنگجوؤں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو اب بھی غیرریاستی عناصر چلارہے ہیں اور وہاں ایک رجیم قائم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد متعدد ایجنسیوں اور پراکسیز نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ جیش العدل، القاعدہ اور داعش خراسان جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ، امریکا اور کئی دیگر ممالک بھی افغانستان میں ان تنظیموں کی موجودگی کی نشاندہی کرچکے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان افغان طالبان سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی حمایت بند کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان رجیم نے نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے تشکیلیں افغانستان سے آتی ہیں اور دہشت گردوں کو اسلحہ بھی وہیں سے فراہم کیا جاتا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے خبردار کیا کہ اگر افغان طالبان رجیم دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو اسے سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کی عالمی سطح پر کوئی ساکھ نہیں ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ افغان رجیم کو ایک معمول کی ریاست جیسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان کو منشیات کی کاشت اور پیداوار روکنے کے لیے بھی اقدامات کرنے پر مجبور کرے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان رجیم کی جانب سے لاحق تمام خطرات، بشمول ڈرونز، کا مؤثر سدباب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔