
امریکی وزارتِ خارجہ نے سعودی عرب میں واقع اپنے سفارتی مشنز سے غیر ضروری سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
یہ قدم یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں سویلین ایئرپورٹس اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دمام ایئرپورٹ اور ایک آئل فیلڈ پر تازہ حملوں میں کم از کم 3 افراد جاں بحق اور ایک پاکستانی سمیت 10 زخمی ہوئے ہیں۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے تصدیق کی کہ حکومت نے سعودی عرب میں موجود صرف غیر ضروری امریکی عملے اور ان کے خاندانوں کو نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق خطے کے دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی سفارتی مشنز سے بھی عملے کے اہلِ خانہ کا انخلا متوقع ہے۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز پر بھی خلیجی خطے سے سفارتی عملے کو واپس بلایا گیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں حالات کچھ بہتر ہونے پر بعض اہلکاروں کو دوبارہ تعینات کیا گیا تھا، جنہیں اب تازہ ترین کشیدگی کے باعث پھر سے واپس بلایا جا رہا ہے۔
امریکی انخلا کے احکامات کے فوری بعد سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھاریٹی نے رپورٹ کیا کہ دمام میں واقع کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص جاں بحق اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق ایئر ڈیفنس سسٹم نے سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ایک ڈرون کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم اس واقعے میں بھی دو افراد جاں بحق ہوئے۔
ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے شہریوں کے لیے سیکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا ہے، جس میں دارالحکومت کے ایئرپورٹ سمیت مختلف سائٹس پر حالیہ ہلاکت خیز حملوں کے بعد مزید حوثی حملوں کے خدشے کا اظہار کیا گیا ہے۔
یمن میں جنگ کی شدت اور خلیجی ممالک میں حوثی حملوں کا یہ تازہ سلسلہ فروری میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی وسیع تر علاقائی جنگ کا ایک نیا محاذ ثابت ہو رہا ہے۔
مارچ کے اوائل میں بھی ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے اور وہاں موجود سی آئی اے کے ایک اسٹیشن کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
ان واقعات اور سفارتی عملے کے انخلا کے بعد خلیجی خطے میں تجارتی سرگرمیاں، عالمی توانائی کی نقل وحمل اور مقامی معیشتیں مزید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔