امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ جنگ چھیڑ سکتے ہیں: عباس عراقچی

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کر سکتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے جال میں پھنس چکا ہے، جو امریکی اور اسرائیلی عوام کے مفادات کے بجائے اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ جنگ کے خدشات کے باوجود واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے بیان اور نیتن یاہو کے اعلان سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔

اُدھر برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں عباس عراقچی نے کہا کہ خلیج فارس میں آگے بڑھنے کا راستہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب امریکی حکومت یہ تسلیم کر لے کہ ایران کے معاملے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ منصفانہ اور باعزت سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے واشنگٹن کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جارحیت مستقل طور پر ختم کرنے کی حقیقی خواہش ظاہر کرنا ہوگی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایران سے لاحق خطرے کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اسرائیلی فوج، خفیہ ایجنسی موساد اور ملٹری انٹیلی جنس کو اقدامات کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ شراکت داری نہیں کرتے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے ان بیانات سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور تہران میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے اسرائیلی مؤقف واضح ہوتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles