صدی کے اختتام تک عالمی درجہ حرارت میں 2.8 ڈگری اضافے کا خدشہ ہے: اقوامِ متحدہ

اقوام متحدہ کی عالمی درجہ حرارت سے متعلق ایک تازہ رپورٹ میں عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) میں اضافے سے خبردار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بہترین ممکنہ صورتِ حال میں بھی صدی کے وسط تک عالمی اوسط درجہ حرارت میں صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.7 سے 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے کا خطرہ موجود ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ کو محدود رکھنے کے لیے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بڑے پیمانے پر کمی کرنا ہوگی۔

گرین ہاؤس گیسز وہ گیسیں ہیں جو ماحول میں گرمی کو جذب کرتی ہیں اور اسے خلا میں واپس جانے سے روکتی ہیں۔ یہ گیسیں زمین کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں لیکن جب ان کی مقدار حد سے زیادہ بڑھ جائے تو یہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے (گلوبل وارمنگ) کا سبب بنتی ہیں۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 2030 تک گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو 2025 کی سطح کے مقابلے میں 18 فیصد، 2035 تک 45 فیصد اور 2040 تک 69 فیصد کم کرنا ضروری ہے۔

تاہم مختلف ممالک کے موجودہ قومی منصوبوں کے تحت 2030 تک اخراج میں صرف 5 سے 8 فیصد اور 2035 تک 11 سے 15 فیصد کمی متوقع ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ پالیسیاں برقرار رہیں تو رواں صدی کے اختتام تک عالمی اوسط درجہ حرارت میں صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہاں تک کہ اگر دنیا اپنے موجودہ ماحولیاتی وعدوں پر مکمل عمل درآمد کر بھی لے تو اس صورت میں بھی یہ اضافہ 2.6 ڈگری تک رہنے کا امکان ہے۔

یہ دونوں تخمینے گزشتہ سال کے اندازوں سے زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں اس اضافے کی وجوہات میں امریکا کا ’پیرس ماحولیاتی معاہدے‘ سے دستبردار ہونا اور ماضی میں گرین ہاؤس گیسز کے اخراج سے متعلق تخمینوں پر نظرِ ثانی کو شامل کیا گیا ہے۔

ترکیے میں اقوامِ متحدہ کی آئندہ موسمیاتی کانفرنس، ’کوپ 31‘ کی تیاریوں کے دوران اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ سیلاب، جنگلاتی آگ اور دیگر قدرتی آفات کی شدت میں اضافے کا سبب بننے والے ان اقدامات کو محدود کرنے کی کوششیں ترک نہیں کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت کا 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرنے پر امکانات پر ہتھیار نہیں ڈالنے چاہئیں بلکہ اب بھی اس تجاوز کو جتنا ممکن ہو کم کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے کے تحت دنیا بھر کے ممالک نے درجہ حرارت میں اضافے کو 2 ڈگری سے نیچے لانے اور ترجیحی طور پر 1.5 ڈگری تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اس ہدف تک محدود رہنا اب ممکن نہیں رہا۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے مطابق ممکنہ منظرنامہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ 2100 تک درجہ حرارت کے 1.5 ڈگری تک واپس آنے کے امکانات بمشکل 50 فیصد ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال سے اب تک پیش کیے گئے ماحولیاتی منصوبوں سے مستقبل کے تخمینوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت کو دوبارہ 1.5 ڈگری کی حد تک لانے کا انحصار بڑے پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کو فضا سے نکالنے پر ہوگا تاہم اس مطلوبہ پیمانے پر عمل درآمد ممکن ہے یا نہیں، اس بارے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles