
ملتان کے قریب پیش آنے والے رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں ٹرین کی دوسری کوچ کا لٹکتا ہوا پرزہ ریلوے کراسنگ میں پھنسنے کو حادثے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے حادثے کی حتمی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
ملتان میں شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کے حادثے کی ابتدائی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرین کی دوسری کوچ نمبر 12430-6 کے نیچے لٹکتے ہوئے ٹریس بار ہینگر کا ایک حصہ ریلوے کراسنگ بلاک سے ٹکرایا اور کراسنگ کے نوز میں پھنس گیا۔
رپورٹ کے مطابق پرزہ ریلوے کراسنگ کے پوائنٹ میں پھنسنے سے کوچ کھنچ گئی، جس کے نتیجے میں پہیہ ریل ہیڈ پر چڑھا اور کوچ پٹری سے اتر گئی۔ اس کے بعد ٹرین کی مزید کوچز بھی پٹری سے اترتی چلی گئیں۔ حادثے کے نتیجے میں اپ اور ڈاؤن دونوں ریلوے لائنیں متاثر ہوئیں اور مجموعی طور پر 14 کوچز پٹری سے اتریں۔
ابتدائی مشترکہ رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین کا انجن اور اس کے ساتھ موجود لگیج وین ریلوے کراسنگ سے بحفاظت گزر گئے تھے۔ یارڈ میں داخلے کے لیے ریسیپشن اور ڈیپارچر سگنلز بھی گرین تھے تاہم انجن سے دوسری کوچ کے نیچے موجود ٹریس بار ہینگر کا لٹکتا ہوا حصہ کراسنگ پوائنٹ میں پھنس گیا، جس کے باعث کوچ پٹری سے اتر گئی اور حادثہ پیش آیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹریس بار ہینگر کا باقی حصہ جائے حادثہ سے مل گیا جب کہ اس کے دیگر حصے اور پرزے بھی کراسنگ میں پھنسے ہوئے پائے گئے۔ حادثے کے بعد ریلوے کے مختلف شعبوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل بھی جاری ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایت پر فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر آف ریلوے (ایف جی آئی آر) حادثے کی باقاعدہ انکوائری کریں گے۔ اس انکوائری میں حادثے کی حتمی وجہ، ممکنہ تکنیکی خرابی، غفلت اور متعلقہ عملے کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔
ابتدائی مشترکہ رپورٹ میں حادثے کی وجہ دوسری کوچ کے نیچے لٹکتے ہوئے پرزے کا کراسنگ میں پھنسنا بتایا گیا ہے، تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین باقاعدہ انکوائری کے بعد ہوگا۔
حادثہ کب اور کہاں پیش آیا؟
یاد رہےکہ رحمان بابا ایکسپریس کو حادثہ منگل 13 اکتوبر 2026 کو صبح تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر ملتان کے قریب شیر شاہ ریلوے اسٹیشن اور شیر شاہ پل کے علاقے میں پیش آیا۔ کراچی سے پشاور جانے والی ٹرین کی 14 کوچز پٹری سے اتر گئیں، جس کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
حادثے میں 5 مسافر جاں بحق اور 36 زخمی ہوئے، زخمیوں کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیوں کے ساتھ ریلوے ٹریک کی بحالی کا کام بھی شروع کیا گیا۔
حادثے کے بعد ٹرین کی کوچز کو پہنچنے والے نقصان اور ریلوے آپریشن میں تعطل کا جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ نے حادثے کی ممکنہ تکنیکی وجہ کی نشاندہی کردی ہے تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں اور کسی ممکنہ غفلت کی تصدیق کے لیے ایف جی آئی آر کی انکوائری اہم ہوگی۔