
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے فیس بک پر توہین آمیز تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار 27 سالہ سری لنکن تارکِ وطن انوجن سیواراسا کی سزائے موت کو منسوخ کر دیا ہے۔
سری لنکا کے نائب وزیرِ خارجہ ارون ہیما چندرا نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سری لنکن حکومت اور قانونی ٹیمیں فیصلے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ انہوں نے دونوں ممالک کے حکام اور قانونی ماہرین کی کاوشوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ معاملہ جون کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب سوشل میڈیا پر الاحسا کے علاقے میں مقیم سری لنکن تارکِ وطن انوجن سیواراسا نے تامل زبان میں نبی کریم ﷺ سے متعلق توہین آمیز تبصرہ تحریر کیا۔
اگرچہ سیواراسا نے فوری طور پر اپنا کمنٹ حذف کر کے معذرت کی ویڈیو بھی جاری کی تھی، تاہم اس کے اسکرین شاٹ کی بنیاد پر جولائی میں انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر الاحسا کی انسدادِ جرم عدالت نے سیواراسا کو پانچ سال قید اور 30 لاکھ سعودی ریال (تقریباً 8 لاکھ امریکی ڈالر) جرمانے کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد میں اپیلٹ کورٹ نے ستمبر میں جرم کی نوعیت کے پیشِ نظر اسے سزائے موت میں تبدیل کر دیا تھا۔
اس فیصلے پر سری لنکا میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور حکومتی و سفارتی سطح پر سزائے موت ختم کرانے کی کوششیں شروع کر دی گئی تھیں۔
اس ضمن میں سری لنکا کے قانونی ماہرین اور کرکٹ کے سابق کپتان سناتھ جے سوریا نے بھی انسانی بنیادوں پر سعودی عرب سے معافی کی اپیل کی تھی۔
سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے التوا اور منسوخی کے بعد فی الوقت یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا سیواراسا کو مستقبل میں مزید قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا وہ کتنے عرصے تک حراست میں رہیں گے۔
دوسری جانب سیواراسا کے اہل خانہ نے بتایا کہ 28 ستمبر کے بعد سے ان کا اپنے بیٹے سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہو سکا ہے، جبکہ سری لنکن حکومت ان کی بحفاظت اور جلد رہائی کے لیے قانونی پہلوؤں پر مسلسل رابطہ رکھے ہوئے ہے۔