
سعودی عرب ہر سال دفاعی اخراجات کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ یمن کے حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز سے اپنے اہم ترین اثاثوں جیسے کہ ہوائی اڈوں، آئل ریفائنریز اور پائپ لائنوں کے دفاع میں مشکلات کا شکار ہے۔
امریکا اور یورپ سے جدید ترین عسکری سازوسامان اور کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام حاصل کرنے کے باوجود گزشتہ ہفتے کے دوران دارالحکومت ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر مہلک حملے دیکھے گئے ہیں۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس سعودی عرب نے دفاع پر 83 ارب ڈالر خرچ کیے، جو اسے دنیا کے ان دس ممالک میں شامل کرتے ہیں جو فوجی شعبے پر سب سے زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔
سعودی مملکت نے امریکی لڑاکا طیاروں کے علاوہ پیٹریاٹ اور تھاڈ فضائی دفاعی نظام کے ساتھ ساتھ فرانس اور برطانیہ سے بھی جدید ہتھیار حاصل کیے ہیں، لیکن سعودی عرب کو دفاع کے لیے ایک بہت بڑے رقبے اور بیک وقت تین اطراف سے لاحق خطرات کا سامنا ہے۔
مشرق کی طرف سے رواں سال تنازع کے دوران ایران نے سعودی اہداف پر تقریباً 1000 میزائل اور ڈرون داغے، شمال کی طرف عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے ملک کی اہم مشرق-مغرب آئل پائپ لائن پر حملے کیے، اور جنوب سے حوثی باغی یمن کے پہاڑی علاقوں میں پناہ گاہوں اور موبائل لانچرز سے مملکت پر میزائل فائر کرتے ہیں۔
سعودی عرب کے دفاع کا مطلب صرف ریاض یا کسی ایک ریفائنری کا تحفظ نہیں بلکہ تنصیبات کے ایک وسیع نیٹ ورک کی حفاظت کرنا ہے، جہاں فضائی دفاعی نظام کو آنے والے خطرات کا پتہ لگانے اور ان میں سے کس کو روکنا ہے اس کا فیصلہ کرنے کے لیے چند لمحے ملتے ہیں۔
حوثی عسکریت پسندوں نے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے ساتھ ملا کر سعودی دفاع کو دباؤ میں لانے کا طریقہ سیکھ لیا ہے، جو روس کی جانب سے یوکرین پر حملوں کی حکمت عملی سے مماثلت رکھتا ہے۔
کروز میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی شناخت اور تعاقب کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ حوثیوں نے بیلسٹک میزائلوں کی نئی نسل بھی متعارف کرائی ہے جو کہ نشانہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
سی این این کے مطابق، ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کو یہ عسکری معاونت اور تکنیکی تربیت بیرونی ذرائع سے حاصل ہوتی رہی ہے، اور ان کے جدید میزائل حتم-2 اور فلسطین-2 ڈیزائن اور کارکردگی میں ایرانی ہتھیاروں سے مشابہت رکھتے ہیں۔
اس صورتحال میں سعودی عرب کو مشکل فیصلوں کا سامنا ہے، کیونکہ ہوائی اڈے کے حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد حوثیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا مشکل ہے، جبکہ مزید شدید فضائی حملوں کے ذریعے کشیدگی بڑھانے سے ولی عہد محمد بن سلمان کے اس ہدف کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے تحت وہ سعودی عرب کو سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور سیاحت کا عالمی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔
زمینی کارروائی کے ذریعے حوثی باغیوں کو شکست دینا بھی انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ پہاڑی علاقوں سے پوری طرح واقف ہیں اور یمنی حکومت کو بھاری نقصانات پہنچا چکے ہیں۔
سعودی مملکت اس بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ این این کا دعویٰ ہے کہپاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہزاروں فوجی بھیجے ہیں اور دیگر اتحادی ممالک نے بھی ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
تاہم امریکی حکومت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں براہ راست مداخلت سے گریز کے رجحان نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔