اے آئی ماڈلز خود کی نقل بنا کر انٹرنیٹ پر تباہی پھیلانے کے قریب پہنچ گئے: انتھروپک کی وارننگ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی اینتھروپک نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی ماڈلز آئندہ چند ماہ میں انٹرنیٹ پر خود کو نقل کرکے پھیلانے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں، جس سے سائبر سیکیورٹی کے لیے نئے اور سنگین خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

کمپنی کے مطابق، اگر کوئی اے آئی نظام انسانی نگرانی کے بغیر خود کو مختلف ڈیوائسز پر پھیلانے، کمپیوٹنگ وسائل حاصل کرنے اور اسے بند کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگیا تو اسے قابو کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، اینتھروپک نے پیر کو جاری کی گئی ایک تحقیق میں اس ممکنہ خطرے کی تفصیلات بیان کیں۔ کمپنی نے خدشہ ظاہر کیا کہ کوئی بے قابو اے آئی نظام انٹرنیٹ سے منسلک متعدد آلات کو اپنے کنٹرول میں لے کر ایک ایسا نیٹ ورک بنا سکتا ہے جس کے ذریعے وہ تیزی سے پھیل سکے۔ یہ نظام خود کو بند کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت بھی کرسکتا ہے، جبکہ زیادہ طاقتور کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈی اس سے قبل بھی خبردار کرچکے ہیں کہ اگلے ایک سال یا اس سے بھی کم عرصے میں اے آئی کے ذریعے انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر پھیلنے والا ایک ایسا نیٹ ورک بننے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے جسے قابو کرنا مشکل ہو۔

کمپنی کی تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درمیانے درجے کے بعض اے آئی ماڈلز، جن میں 30 ارب یا اس سے کم پیرامیٹرز ہیں، خود کو نقل کرکے پھیلنے کے عمل کے لیے درکار کئی الگ الگ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم، کمپنی کے مطابق یہ ماڈلز ابھی ان تمام مراحل کو قابلِ اعتماد انداز میں مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

پیرامیٹرز سے مراد وہ عددی عوامل ہیں جنہیں اے آئی ماڈل تربیت کے دوران سیکھتا ہے اور جن کی مدد سے وہ معلومات پر کارروائی کرکے نتائج پیدا کرتا ہے۔ عام طور پر کسی ماڈل کے پیرامیٹرز کی تعداد اس کی پیچیدگی اور صلاحیت کا ایک پیمانہ سمجھی جاتی ہے، تاہم صرف زیادہ پیرامیٹرز ہونا بہتر کارکردگی کی ضمانت نہیں۔

اینتھروپک کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز انٹرنیٹ سے منسلک کم قیمت آلات کو اپنے قابو میں لے کر ان کی کمپیوٹنگ طاقت استعمال کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی ضروریات کے لیے مختلف آلات کے وسائل یکجا کرسکتے ہیں۔ کمپنی کے تجربات میں ایسے ماڈلز ایک سادہ اور محدود آزمائشی نیٹ ورک میں خود کو نقل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

کمپنی کے مطابق، اس نوعیت کے نظام کو بند کرنا اس لیے مشکل ہوسکتا ہے کہ اس کا انحصار کسی ایک مرکزی سرور یا سروس پر نہیں ہوگا۔ اگر یہ متعدد آلات پر پھیل جائے تو کسی ایک مقام کو بند کرنے سے پورا نیٹ ورک ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

تاہم، سائبر سیکیورٹی کے تمام ماہرین اس خطرے کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتے۔ بعض ماہرین نے اینتھروپک کے انتباہ کو ضرورت سے زیادہ تشویش پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ دوسروں کے نزدیک اس امکان کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔

برطانیہ کے نیشنل سائبر سیکیورٹی سینٹر کے سابق سربراہ سیرن مارٹن نے کمپنی کے دعوؤں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی چھوٹے اے آئی ماڈل کو کم قیمت ٹیلی ویژن پر چلانے میں کامیابی بذاتِ خود سائبر سیکیورٹی کے بحران کا ثبوت نہیں۔ ان کے مطابق، یہ ایک دلچسپ تکنیکی تحقیق ہے، لیکن اس میں کمپنی کی جانب سے اپنے مؤقف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا پہلو بھی دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب، یونیورسٹی آف کولوراڈو ڈینور میں کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر ژینگ شیونگ لی نے اس پیش رفت کو تشویش ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق، اگر کوئی اے آئی نظام خود کو نقل کرنے والے کمپیوٹر پروگرام، جسے ’ورم‘ کہا جاتا ہے، کی طرح کام کرنے لگے اور مختلف آلات میں موجود کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے نئے طریقے تلاش کرسکے تو اس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نظام کسی مرکزی سروس پر انحصار کیے بغیر متعدد آلات پر کام کرنے لگے تو اسے بند کرنے کے لیے کوئی ایک مؤثر مقام موجود نہیں ہوگا۔

اینتھروپک نے یہ بھی اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اگر چھوٹے اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں ماضی کی رفتار سے بہتری جاری رہی تو وہ 2026 کے اختتام تک خودکار طور پر نقل کرنے اور پھیلنے کے لیے درکار صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں۔

کمپنی نے یہ امکان بھی پیش کیا کہ ایسے ماڈلز زیادہ طاقتور کمپیوٹنگ وسائل، بشمول ڈیٹا سینٹرز کے پروسیسرز، تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں، جس سے انہیں کہیں زیادہ کمپیوٹنگ طاقت میسر آسکتی ہے۔

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر فار سیکیورٹی اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی کی سینئر ریسرچ تجزیہ کار جیسیکا جی کے مطابق، حالیہ مہینوں میں بے قابو اے آئی سرگرمیوں سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے بعد اس امکان پر غور کرنا ضروری ہے کہ اے آئی ماڈلز خودکار طور پر پھیلنا شروع کردیں۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ایسا ہونے کا امکان کتنا ہے۔ ان کے مطابق، اس خطرے کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ بھی یقینی نہیں کہ ایسا ضرور ہوگا۔

اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ سائبر حملوں کو خودکار بنانے، انسانی نگرانی کے بغیر کام کرنے اور حفاظتی اقدامات سے بچ نکلنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ اینتھروپک کی تحقیق اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ جدید اے آئی نظاموں کی ترقی کے ساتھ ممکنہ خطرات کو کیسے سمجھا اور محدود کیا جائے۔

ماہرین کے درمیان اختلاف کے باوجود، اس معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر اے آئی نظام خود کو انٹرنیٹ پر پھیلانے اور کمپیوٹنگ وسائل حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں تو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے کون سے مؤثر حفاظتی اقدامات درکار ہوں گے۔ فی الحال اینتھروپک کی تحقیق ایک ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتی ہے، نہ کہ اس بات کی ضمانت کہ ایسا نظام مستقبل قریب میں لازماً سامنے آجائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles