
ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاض کی مدد کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اسے کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
حاقان فیدان نے جمعرات کو انقرہ میں ہنگری کے وزیرِ خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ترک حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ترکیہ ’مکہ معاہدے‘ کے تحت سعودی عرب کو کس نوعیت کی معاونت فراہم کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تکنیکی جائزے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان بات چیت بھی ہورہی ہے۔ ان کے مطابق ممکنہ تعاون میں خاص طور پر فضائی دفاع کے شعبے کو اہمیت دی جارہی ہے۔
ان کے مطابق ’مکہ معاہدے‘ کے تحت دفاعی مقاصد کے لیے فضائی دفاع، الیکٹرانک وارفیئر اور تکنیکی معاونت کے شعبوں میں ممکنہ تعاون ہوسکتا ہے، تاہم ترکیہ کسی جارحانہ فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فوجیں زمینی سطح پر حوثیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور سعودی عرب ان کی حمایت کر رہا ہے۔
حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ کسی ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں دیگر ممالک اس کے دفاع کے لیے اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاہم یہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کے لیے فوج بھیجنے کا معاہدہ نہیں ہے۔
ترکیہ کے آئین کے ’آرٹیکل 92‘ کے تحت کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو قانونی شکل دینے اور ترک افواج کو بیرونِ ملک تعینات کرنے کے لیے پارلیمان کی باضابطہ منظوری اور اجازت لازمی ہے۔ رپورٹس کے مطابق مکہ معاہدے کے حوالے سے تاحال ترک پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لی گئی ہے۔
حاقان فیدان نے جمعرات کو اس حوالے سے بتایا کہ مکہ معاہدے کے متن کو منظوری کے لیے ترک پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا عمل مکمل کرلیا گیا اور اسے جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔
ترک وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ہفتے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی اسٹریٹجک، پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا، جس میں سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی صورت حال اور خطرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب کے دفاع کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ہنگامی صورت حال کی صورت میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور دفاعی صلاحیتوں کے استعمال پر اتفاق کیا گیا تھا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب یمن میں جاری تنازع کے تناظر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کیے جارہے ہیں۔
گزشتہ روز پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی سی این این کو انٹرویو میں پاکستانی فوجی دستوں کے سعودی عرب میں تعیناتی کے سوال پر بتایا تھا کہ پاک فوج کے دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد اچانک سے وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی، سیاسی، فوجی اور عوامی سطح کے تعلقات کا نتیجہ ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی مختلف مواقع پر مکہ دفاعی معاہدے کو دفاعی نوعیت کا معاہدہ قرار دے چکے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی وفاقی وزارتِ اطلاعات نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں پاک فضائیہ کے طیاروں کے استعمال ہونے سے متعلق خبر کو بھی مسترد کرتے ہوئے من گھڑت قرار دیا ہے۔
وفاقی وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک سینئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں میں پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔