‘بہت ہی گھٹیا کھیل تھا’: انگلینڈ کے خلاف بھارتی ٹیم کے صرف 76 رنز؛ سابق کرکٹرز اور عوام برہم

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کو ایک عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں پوری ٹیم صرف چھہتر رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ بھارت کی اس شرمناک ہار پر سابق کرکرٹرز اور عوام سیخ پا ہیں۔

موجودہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ چیمپئن بھارتی ٹیم کی کارکردگی اس وقت بہت خراب چل رہی ہے اور نئے کپتان شریاس ائیر کی قیادت میں ٹیم اب تک ایک بھی میچ نہیں جیت سکی ہے۔

انگلینڈ نے یہ میچ 125 رنز کے بڑے فرق سے جیتا ہے، جو رنز کے لحاظ سے بھارت کی تاریخ کی سب سے بڑی ہار ہے۔ اس شرمناک کارکردگی کے بعد بھارتی مداحوں کا غصہ آسمان پر پہنچ گیا ہے اور وہ سوشل میڈیا پر ٹیم اور کوچز کو کھری کھری سنا رہے ہیں۔

میچ کی کہانی کچھ یوں ہے کہ بھارت نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کا فیصلہ کیا، لیکن انگلینڈ کے بلے بازوں نے بھارتی باؤلرز کی ایک نہ چلنے دی اور 20 اوورز میں 201 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا۔

انگلینڈ کی طرف سے فل سالٹ نے شاندار بلے بازی کرتے ہوئے 44 گیندوں پر 70 رنز بنائے۔ انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے میچ کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سالٹ نے ایک بہت بڑی اننگز کھیلی اور اس مشکل پچ پر 200 رنز بنانا ایک کمال کی کوشش تھی۔

جواب میں جب بھارتی ٹیم میدان میں اتری تو انگلینڈ کے تیز گیند بازوں، جوفرا آرچر اور جوش ٹونگ نے اپنی طوفانی رفتار سے بھارتی بلے بازوں کے پرخچے اڑا دیے۔

دونوں باؤلرز 145 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے گیند بازی کر رہے تھے جس کے سامنے بھارتی بلے باز بے بس نظر آئے اور پوری ٹیم 12 اوورز بھی نہ کھیل سکی۔ صرف چار بلے باز ہی ڈبل فگر یعنی 10 رنز سے اوپر پہنچ سکے۔

اس عبرتناک ہار پر بھارتی ٹیم کے کپتان شریاس ائیر نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی گھٹیا اور شرمناک کارکردگی تھی، میرے پاس اس سے بہتر کوئی لفظ نہیں ہے۔

انہوں نے میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتنے بڑے فرق سے ہارنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پچ 200 رنز والی نہیں تھی، ہم نے پاور پلے میں ہی پانچ وکٹیں گنوا دیں جس کی وجہ سے ہم میچ سے باہر ہو گئے۔ ہمارے کھیلنے کا انداز بہت ہی خراب تھا۔

دوسری طرف، بھارت کے سابق کپتان اور باؤلر انیل کمبلے نے ٹیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مکمل ہتھیار ڈالنا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی ٹیم کی طرف سے ایک بزدلانہ خود سپردگی تھی۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق، انیل کمبلے نے جیو ہاٹ اسٹار کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ورلڈ چیمپئن ٹیم سے اس طرح گھٹنے ٹیکنے کی امید نہیں کرتے۔ بھارتی بلے بازوں کو تھوڑا صبر دکھانا چاہیے تھا لیکن ہر کوئی بس ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کر رہا تھا۔

کمبلے نے ٹیم میں بار بار تبدیلیاں کرنے اور شیوام دوبے جیسے اچھے بلے باز سے پہلے ہرشیت رانا کو بیٹنگ کے لیے بھیجنے کے فیصلے کو بھی غلط قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر بھارتی کرکٹ شائقین بھی اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکے اور ایک صارف نے لکھا کہ اگر بلے باز ہر گیند پر چھکا مارنے کی کوشش کریں گے تو ایسا ہی انجام ہوگا۔ ان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ آئی پی ایل کی پچوں پر نہیں کھیل رہے۔

ایک اور ناراض مداح نے لکھا کہ اگر یہی ٹیم رہی تو یہ پاکستان کی خواتین کی ٹیم سے بھی ہار جائیں گے، ان بیکار کوچز کو ہٹاؤ اور سینئر کھلاڑیوں کو واپس لاؤ۔

کچھ لوگوں نے ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان سوریا کمار یادو اور سنجو سیمسن کو ٹیم سے باہر کرنے پر سلیکٹرز پر تنقید کی اور کہا کہ جب آپ ایسے کھلاڑیوں کو نکالیں گے تو یہی حشر ہوگا۔

اس ہار کے بعد پانچ میچوں کی اس سیریز میں انگلینڈ کو دو صفر کی برتری حاصل ہو گئی ہے اور بھارت کے لیے اب یہ سیریز جیتنا ناممکن ہو چکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles