
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہونے کے اعلان کے بعد دنیا بھر کی منڈیوں میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے۔
ان کے اس بیان اور دونوں ملکوں کے درمیان رات کے وقت ہونے والے فوجی حملوں کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں خوف پھیل گیا ہے اور شیئرز بازاروں میں بڑی مندی دیکھی گئی ہے۔
معاشی ماہرین اور بازار کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس ایک بیان کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ یعنی خام تیل کی قیمت چھ فیصد بڑھ کر اٹھہتر ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے برعکس یورپ کے شیئرز بازاروں میں ایک اعشاریہ چھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے، یعنی وہاں لوگوں کے پیسے ڈوب گئے ہیں۔
دوسری طرف امریکی ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور سرکاری بانڈز کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئی ہیں کیونکہ کاروبار کرنے والے بڑے سرمایہ کاروں کو اب یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کی جنگ دوبارہ بھڑک اٹھی تو دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انقرہ میں صحافیوں سے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ اب کسی معاہدے پر بات کرنا محض وقت کا ضیاع ہے اور میرے لیے یہ سب ختم ہو چکا ہے۔
اس سے پہلے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے فوجی اڈوں اور جہازوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے تھے جس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کا سیدھا اثر عام چیزوں پر پڑے گا کیونکہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو مال لانے اور لے جانے کا کرایہ بڑھ جاتا ہے جس سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
اب دنیا بھر کے کاروباری لوگ اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اور دونوں ملکوں کی یہ لڑائی دنیا کی معیشت کو کتنا بڑا نقصان پہنچائے گی۔