امریکی عوام نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دے دیا

امریکا میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا، ایک حالیہ سروے میں اکثریت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس اضافے کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز اور ایپسوس کے مشترکہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی واضح اکثریت نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا ذمہ دار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا ہے۔ سروے کے مطابق 77 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اس اضافے کے کم از کم کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔

سروے میں یہ رجحان مختلف سیاسی جماعتوں کے ووٹرز میں بھی دیکھا گیا۔ نتائج کے مطابق 55 فیصد ریپبلکن، 82 فیصد آزاد ووٹرز اور 95 فیصد ڈیموکریٹس نے پیٹرول مہنگا ہونے کا الزام صدر ٹرمپ پر عائد کیا۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت شروع ہوا جب امریکا نے اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی اور تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی۔

سروے میں شامل 58 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ایسے امیدواروں کی حمایت کم کریں گے جو ایران سے متعلق ٹرمپ کی پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں۔ ان میں ریپبلکن ووٹرز کی بھی قابلِ ذکر تعداد شامل ہے، جبکہ آزاد ووٹرز کی بڑی اکثریت بھی اس رائے کی حامل ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے جواب میں ایران نے امریکی اتحادیوں کو نشانہ بنایا اور تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، جس سے عالمی سطح پر تقریباً پانچواں حصہ تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 4 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہیں، جو جنگ سے قبل کی قیمتوں کے مقابلے میں ایک ڈالر زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف معیشت بلکہ سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles