جدہ ٹاور کی ریکارڈ ساز بلندی: برج خلیفہ کو اونچائی میں پیچھے چھوڑنے کو تیار

سعودی عرب کے شہر جدہ میں زیر تعمیر ”جدہ ٹاور“ نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے 100 سے زائد منزلیں مکمل کر لی ہیں اور اس کی اونچائی 400 میٹر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس بڑے منصوبے کے لیے ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے جو مکمل ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بلند عمارت بننے کا ہدف رکھتا ہے۔

یہ ٹاور ایک ہزار میٹر سے زیادہ بلند بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ تاریخ کی پہلی عمارت ہوگی جو ایک کلومیٹر کی بلندی تک پہنچے گی۔ تکمیل کے بعد یہ دبئی کی موجودہ بلند ترین عمارت ”برج خلیفہ“ کو پیچھے چھوڑ دے گا، جس کی اونچائی اس وقت 828 میٹر ہے۔

اس پیش رفت کی تصدیق انجینئرنگ کمپنی تھارنٹن توماسٹی نے کی ہے، جو اس منصوبے کے اسٹرکچرل ڈیزائن پر کام کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق ٹاور اب 100 منزلوں اور 400 میٹر کی حد سے آگے نکل چکا ہے۔

جدہ ٹاور کا ڈیزائن ایڈرین اسمتھ اور گورڈن گل آرکیٹیکچر نے تیار کیا ہے، جو اس سے پہلے برج خلیفہ کا ڈیزائن بھی بنا چکے ہیں۔ اس منصوبے میں دیگر ادارے بھی شامل ہیں جن میں جدہ اکنامک کمپنی، لینگن، آر ڈبلیو ڈی آئی، دار الہندسہ، سعودی بن لادن گروپ اور ٹرنر انٹرنیشنل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس منصوبے پر کام 2018 میں رک گیا تھا، تاہم 2025 کے آغاز میں اسے دوبارہ شروع کیا گیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تعمیراتی رفتار میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دسمبر کے مہینے میں یہ عمارت 80 منزلوں کے قریب تھی لیکن اپریل 2026 تک اس نے 100 منزلوں کا ہدف کامیابی سے پار کر لیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ عظیم الشان کثیرالمقاصد منصوبہ 2028 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ جب یہ عمارت تیار ہو جائے گی تو اس میں رہائشی اپارٹمنٹس، دفاتر اور ایک پرتعیش ہوٹل کے ساتھ ساتھ دنیا کا بلند ترین مشاہداتی پلیٹ فارم بھی موجود ہوگا جہاں سے سیاح شہر کا نظارہ کر سکیں گے۔

یہ ٹاور دراصل جدہ اکنامک سٹی کے وسیع تر منصوبے کا مرکز ہے جو خطے میں معاشی اور سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles