
شام میں 2013 کے ہولناک قتلِ عام کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد دارالحکومت دمشق میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور انصاف کے مطالبے کے ساتھ جشن منایا۔
شام میں 2013 کے پرتشدد واقعات اور قتلِ عام میں ملوث مرکزی ملزم امجد یوسف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزم پر سنگین الزامات عائد ہیں اور اسے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
دارالحکومت دمشق میں ملزم کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ مظاہرین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ اسے اس کے جرائم پر سخت سے سخت سزا دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق امجد یوسف سابق صدر بشار الاسد کے دور میں ایک انٹیلی جنس افسر تھا اور شامی بغاوت کے دوران جنوبی دمشق میں سکیورٹی آپریشنز کا ذمہ دار رہا۔ اس پر شہریوں کے خلاف متعدد جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عائد ہیں۔
سن 2022 میں ایک لیک ہونے والی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں مبینہ طور پر شامی فورسز کے جرائم کے شواہد دکھائے گئے۔ ویڈیو میں امجد یوسف کو واضح طور پر دیکھا گیا، جہاں وہ زیر حراست، آنکھوں پر پٹی بندھے اور ہاتھ بندھے شہریوں کو گولی مارتا نظر آیا۔
ویڈیو پر درج تاریخ کے مطابق یہ واقعہ 16 اپریل 2013 کو تدامن قتلِ عام کے دن پیش آیا تھا۔ ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور بعض خاندانوں نے اپنے عزیزوں کو اس میں پہچاننے کا دعویٰ بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد دسمبر 2024 میں امجد یوسف روپوش ہو گیا تھا۔ تدامن کا علاقہ اس وقت شامی سرکاری افواج اور اپوزیشن کے درمیان ایک اہم محاذ جنگ تھا۔
یاد رہے کہ ان واقعات میں مجموعی طور پر 288 شہریوں کو قتل کیا گیا تھا، جنہیں حالیہ تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار کیا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے انصاف کے منتظر تھے اور اب ملزم کی گرفتاری کے بعد انہیں امید ہے کہ ذمہ دار کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔