ساس کا رویہ کیوں بدلتا ہے؟ فضیلہ قاضی نے بڑا راز کھول دیا

ساس کا رویہ کیوں بدلتا ہے؟ فضیلہ قاضی نے بڑا راز کھول دیا

خواتین ساس کے کردار میں آتی ہیں تو ان ہارمونل اور نفسیاتی تبدیلیوں کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جاتا ہے

شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ فضیلہ قاضی نے ساس کے رویوں سے متعلق معاشرتی سوچ اور غلط فہمیوں پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے ان کے پیچھے موجود نفسیاتی اور جسمانی عوامل کی نشاندہی کی ہے۔

ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کے دوران فضیلہ قاضی نے کہا کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بیٹوں کی شادی کے بعد ساس کا رویہ بدل جاتا ہے تاہم اس کے پیچھے اصل وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر خواتین اس عمر میں ساس بنتی ہیں جب وہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو رہی ہوتی ہیں جہاں پری مینوپاز جیسے ہارمونل تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں جو جذبات اور رویے پر واضح اثر ڈالتی ہیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ اس مرحلے میں خواتین زیادہ حساس، جذباتی اور بعض اوقات رونے والی کیفیت کا شکار ہو جاتی ہیں، ماضی میں اس بارے میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے خواتین خود بھی ان تبدیلیوں کو سمجھ نہیں پاتیں۔

فضیلہ قاضی نے کہا کہ جب خواتین ساس کے کردار میں آتی ہیں تو ان ہارمونل اور نفسیاتی تبدیلیوں کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات وہ خود ترسی یا جذباتی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ بعض خواتین اس وقت خود کو صرف گھر کی ذمہ داریاں نبھانے والی شخصیت کے طور پر دیکھنے لگتی ہیں، اس لیے معاشرے کو چاہیے کہ وہ ساس کے رویے کو منفی انداز میں دیکھنے کے بجائے اس کے پس منظر کو بھی سمجھے۔

اداکارہ نے زور دیا کہ گھریلو رشتوں میں بہتر سمجھ بوجھ اور آگاہی سے کئی غلط فہمیاں دور کی جا سکتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles