آبنائے ہرمز میں ایران کے نئے نظامِ ادائیگی نے خطے میں تیل سپلائی روک دی

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے پیشگی منظوری اور فیس کی ادائیگی کا نیا نظام عالمی معیشت پر اثر انداز ہونا شروع ہو گیا ہے۔ دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے جس نے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اس اہم آبی گزرگاہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنی شرائط منوا سکے، اور یہی وجہ ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔

فرانس کے مشہور بزنس اسکول انسیڈ میں معاشیات کے پروفیسر انتونیو فیٹاس نے ’خلیج ٹائمز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ ایک خوش آئند خبر ہے کیونکہ اس سے فی الحال ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن اس معاہدے کی تفصیلات اور مختلف فریقین کی اپنی اپنی تشریحات کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی ایک ایسا نظام نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس کے تحت جہازوں کو گزرنے کے لیے اجازت درکار ہوگی اور ٹیکس کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی، اور اس اقدام سے بحری ٹریفک پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے پاس یہی ایک بڑا راستہ ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں تیل کی سپلائی متاثر رہے گی اور دنیا کو متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی ثالثی اور درخواست پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کر رہے ہیں تاکہ ایران کو اپنی تجاویز پیش کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔

تنازع کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے، جو کہ عام حالات میں دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔

اب تہران نے اس گزرگاہ سے گزرنے کو شرائط سے مشروط کر دیا ہے، جس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ وہ اسے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کے وزیر صنعت اور ادنوک کے سربراہ سلطان الجابر نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے مکمل طور پر کھولا جائے، کیونکہ ان پابندیوں سے عالمی مارکیٹ میں بحران پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 50 دن کی ناکہ بندی کی وجہ سے اب تک تقریباً 60 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل میں رکاوٹ آ چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں ختم بھی کر دی جائیں، تب بھی سپلائی کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔

فریڈم فنانس گلوبل کے سینئر تجزیہ کار سرگئی پگاریو کے مطابق مکمل طور پر راستہ کھلنے کے پہلے ہفتے میں خلیج سے تیل کی برآمدات میں 50 لاکھ بیرل یومیہ تک اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا اثر فوری نہیں ہوگا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سمندری راستے سے تیل کی بھارت منتقلی میں ایک ہفتہ جبکہ چین اور شمالی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچنے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ تیل کے ذخائر آہستہ آہستہ بحال ہوں گے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔

تیل کی برآمد کے لیے متبادل راستے بھی مکمل حل فراہم نہیں کر پا رہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پائپ لائنوں کے ذریعے کچھ تیل بھیج سکتے ہیں، لیکن ان کی گنجائش آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

عراق اور کویت جیسے ممالک کے پاس تو متبادل راستوں کی سہولت بھی محدود ہے جس کی وجہ سے ان کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔

پروفیسر انتونیو فیٹاس کا ماننا ہے کہ اگرچہ مذاکرات سے آنے والے ہفتوں میں بہتری کی امید ہے، لیکن فی الحال اس خطے سے تیل کی کمی کا سامنا رہے گا۔ جب تک سیکڑوں بحری جہاز انتظار میں کھڑے ہیں اور آمد و رفت محدود ہے، تب تک عالمی منڈی میں رسد اور طلب کا فاصلہ بڑھتا رہے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles