
امریکی فوج میں بھرتی کے قواعد میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 35 سال سے بڑھا کر 42 سال کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ برسوں میں بھرتی کے اہداف پورے کرنے میں مشکلات کے بعد کیا گیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے اس فیصلے کا مقصد بھرتی کے لیے اہل افراد کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے نئے ضوابط آرمی ریگولیشن 601- 201 کے مطابق یہ تبدیلی 20 اپریل سے نافذ العمل ہو چکی ہے اور اس کا اطلاق ریگولر آرمی، آرمی ریزرو اور نیشنل گارڈ پر ہوتا ہے۔
نئے قواعد کے تحت بھرتی کے لیے ماریجوانا یا منشیات سے متعلق ایک مرتبہ سزا یافتہ افراد کے لیے معافی کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ امریکی فوج نے 2024 اور 2025 میں اپنے بھرتی کے اہداف حاصل کرلیے تھے، تاہم 2022 اور 2023 میں وہ بالترتیب 25 اور 23 فیصد تک اہداف پورے کرنے میں ناکام رہی۔
اسی طرح آرمی ریزرو گزشتہ چھ برسوں سے مسلسل اہداف حاصل نہیں کر سکی۔
ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی وجوہات میں لیبر مارکیٹ میں تبدیلی، فوجی سروس سے متعلق کم آگاہی، اور نوجوانوں میں صحت، موٹاپے، منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت کے مسائل شامل ہیں۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ فوج میں بھرتی ہونے والوں کی اوسط عمر بڑھ کر 22.7 سال ہو گئی ہے، جبکہ پہلے یہ 21 سال کے قریب تھی۔
یہ نیا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں بیرون ملک فوجی مداخلت کے خلاف نوجوانوں میں مخالفت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مختلف سرویز کے مطابق نوجوان نسل امریکی فوج اور جنگی پالیسیوں کے بارے میں زیادہ منفی رائے رکھتی ہے۔
نئے قواعد کے بعد امریکی فوج کی بھرتی پالیسی اب ایئر فورس، نیوی، کوسٹ گارڈ اور اسپیس فورس کے زیادہ قریب آ گئی ہے، جہاں بھی نسبتاً زیادہ عمر میں بھرتی کی اجازت موجود ہے، جبکہ میرین کور میں حد عمر 28 سال ہے۔
امریکی فوج میں اس وقت تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار فعال اہلکار موجود ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد آرمی کی ہے۔ نئے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں بھرتیوں میں مردوں کی شرح تقریباً 80 فیصد رہی جبکہ سیاہ فام اور لاطینی امریکی نوجوان مجموعی آبادی کے مقابلے میں فوج میں زیادہ نمائندگی رکھتے ہیں۔