اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستان آمد ابہام کا شکار


پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کی آمد تاحال ابہام کا شکار ہے جب کہ پاکستان نے میزبانی کے لیے تیاری مکمل کرلی ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکرات سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان اس بات پر غیر یقینی صورت حال برقرار ہے کہ کون سا فریق پہلے پاکستان پہنچے گا جب کہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامات مکمل ہیں اور بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔
پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور حکام کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطح پر ہونے ہیں تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی روانگی کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق امریکا ممکنہ طور پر کسی سفارتی سبکی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے کیوں کہ اگر امریکی وفد اسلام آباد پہنچ جائے اور ایرانی وفد شریک نہ ہو تو یہ صورت حال واشنگٹن کے لیے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکا اور ایران کے درمیان یہ غیر اعلانیہ مقابلہ جاری ہے کہ کون پہلے اپنے وفد کو پاکستان روانہ کرتا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی بھی ملک کا اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد نہیں پہنچا تاہم گزشتہ چند روز کے دوران معاون عملے کی آمد جاری رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق تعطل کی بڑی وجہ ایران کی وہ پیشگی شرط ہے، جس میں اس نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
العربیہ ٹی وی، گلف نیوز اور رائٹرز کے مطابق ایرانی وفد کی آج اسلام آباد آمد متوقع ہے جب کہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کو ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں اور بات چیت دوبارہ شروع ہونے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو امریکی صدر کے کسی بھی ممکنہ حتمی مرحلے میں شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے اسلام آباد میں ریڈ زون اور اہم مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جب کہ مختلف علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی متعد دبار خلاف ورزی کی۔

اس سے قبل ایک ریڈیو انٹرویو اور سوشل میڈیا بیان میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے مذاکرات جلد حتمی شکل اختیار کرلیں گے۔ ان کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی نمائندے جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر اسلام آباد جا رہے ہیں تاہم امریکی وفد کی اسلام آباد آمد کے وقت کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔
الجزیرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جے ڈی وینس پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی دوپہر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے اور بدھ کی شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے امید طاہر کی ہے کہ مذاکرات جلد مکمل ہو جائیں گے اور ہر ایک خوش ہوجائے گا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے معاہدے کی صورت میں اسے جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بصورت دیگر اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نے ایران میں نیوکلیئر سائٹس پر آپریشن کے ذریعے مکمل تباہی کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے بعض امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں فیک نیوز قرار دیا اور کہا کہ ان کے بیانیے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles