
کراچی میں ایک ماہ پہلے تاوان کے لیے اغوا ہونے والا نوجوان قتل، ملزم ارمغان نے 3 روز پہلے قتل کرنے کا اعتراف کیا، بتایا کہ لاش ملیرندی میں پھینک دی تھی۔ پولیس کو تلاش کے باوجود لاش نہیں ملی، گاڑی اورموبائل فون برآمد ہو گیا ہے، 23 سالہ مصطفیٰ کی والدہ کا کہنا ہے، واقعہ کا مقدمہ بہت مشکل سے درج کیا گیا ۔
کراچی کے پوش علاقے خیابان محافظ سے چھ جنوری کو اغوا ہونے والا نوجوان مصطفی زندہ ہےیہ مرگیا پولیس کشمکش کا شکار ہوگئی، ڈی آئی جی مقدس حیدر نے کہا ملزم ارمغان نے قتل تین روز قبل قتل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
دوسری جانب مغوی مصطفیٰ کے والدین نے پریس کانفرنس نے پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا کہا کہ ہمیں ارمغان نامی شخص پر پہلےسے ہی شک تھا پولیس کو اک اک چیز ہم نے فراہم کی لیکن کاکردگی صفر رہی۔
مغوی کی والدہ نے کہاچھ جنوری کو میرا بیٹا گھر سے گاڑی لے کر نکلا تھا بچہ گھر واپس نہیں پہنچا تو تلاش شروع کی گئی درخشاں تھانے میں رپورٹ کرنے گئے ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی واقعے کا مقدمہ بہت مشکلات کے بعد پولیس نے درج کیا۔
والدہ نے مزید بتایا کہ مصطفیٰ کے اغوا ہونے کے اس کے دوست ارمغان سے چار روز بعد میں نے رابطہ کیا ارمغان کی باتوں سے مجھے اس پر شک ہوا تو اس نے غیر ملکی نمبر سے تاوان مانگا ، تاوان کی اطلاع پولیس کو دی مگر کچھ نہیں کیا گیا ،ہم نے سی ڈی آر ،لوکیشن ،وائس نوٹ ،میسج چیٹ سب خود پولیس کو فراہم کیا ایک مہینے سے بچے کا کچھ پتا نہیں چل رہا ،یہ پوليس کا فیلئیر ہے۔
والدین نے مزید بتایا کہ سی پی ایل سی حکام اور اے وی سی سی نے ارمغان کے گھر پر چھاپا ایک روز قبل ہی ہمیں اس آپریشن کے بارے میں معلوم تھا ، اگر ملزم ارمغان کو گرفتار کیا تو اس کو جیل کیوں بھیجا۔
دوسری جانب ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کا کہنا ہے گرفتار ملزم ارمغان نے دوران تفتیش مصطفی کو تین روز قبل قتل کرنے کا انشکاف کیا ہےقتل کرنے کے بعد لاش ملیر میں پھینکی گئی۔
کراچی میں راہ چلتی خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والا اوباش پکڑا گیا
اے وی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ ملیر کے 2 مختلف مقامات پر لاش کے لیے چھاپا مارا گیا لاش نہیں ملی لاش ملنے کے بعد مغوی مصطفیٰ کے قتل کی تصدیق ہوگی۔
ڈی آئی جی مقدس حیدر کہتے ہیں کہ ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ ملنے کے باعث تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ آٹھ فروری کو مغوی کی بازیابی کیلئے ڈیفینس فیز فائیو میں واقع ایک بنگلے پر چھاپہ مارا گیا تھا جس میں ڈی ایس پی سمیت 2 اہلکار زخمی ہوئے تھے جس کے بعد ملزم ارمغان کو گرفتار کرکے اسنائیپرگن ، 30 سے زائد لیپ ٹاپ ، بھاری مقدار اسلحہ لگژری گاڑیاں، ہزاروں کی تعداد میں گولیاں اور منشیات برآمد کی تھی۔