
استنبول میں جاری دفاعی نمائش ساہا 2026 (SAHA 2026) کے دوران ترکیہ نے اپنے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’یِلدیری مہان‘ کی پہلی بار نمائش کر دی ہے، جو ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ترک خبر رساں ایجنسی ’انا دولو‘ کے مطابق ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے تحقیق و ترقی مرکز نے استنبول میں جاری دفاعی نمائش SAHA 2026 کے دوران اپنے جدید ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’یِلدری مہان‘ کی پہلی بار عوامی سطح پر نمائش کی ہے۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق یہ میزائل آواز کی رفتارسے 25 گنا زیادہ رفتار سے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے جب کہ اس کی مجموعی رینج 6 ہزار کلومیٹر سے زائد بتائی گئی ہے۔ میزائل میں مائع ایندھن کا جدید نظام استعمال کیا گیا ہے اور یہ چار راکٹ انجنوں پر مشتمل ہے۔
یہ پیش رفت ترکیہ کی دفاعی صنعت میں تیز رفتار ترقی کا حصہ ہے، جہاں ملک ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل نظام، فضائی دفاع، ہوابازی اور خلائی منصوبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔
ساہا 2026 بین الاقوامی دفاعی نمائش استنبول میں منعقد کی جا رہی ہے جس میں ترکیہ اور دیگر ممالک کی دفاعی کمپنیاں، عسکری وفود اور سرکاری ادارے نئی ٹیکنالوجیز اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کر رہے ہیں۔
ترکیہ گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن ہے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ملکی دفاعی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کرنا اور عالمی دفاعی منڈی میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران ترک صدر طیب اردوان کو دھمکی دی تھی، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے ’’دہشت گرد نظام‘‘ اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اردوان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’کاغذی شیر‘‘ قرار دیا تھا۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی صدر نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بچوں کے قاتل نے سوشل میڈیا پر میری اور میرے ملک کی توہین کی، ان کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ ترکیہ معمولی ریاست نہیں ہے۔ کوئی بھی طاقت ترکیہ یا اس کے صدر کو انگلی نہیں دکھا سکتی۔
رجب طیب اردوان نے یہ بھی کہا تھا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے خطے میں امن کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جنگ بندی سے ملنے والے موقع سے پورا فائدہ اٹھانا چاہیے، ترکیہ مذاکرات جاری رکھنے اورسیز فائر میں توسیع کی کوشش کررہا ہے۔