جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز سے ایران کا قبضہ ختم کریں گے: امریکی وزیرِ جنگ

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ جنگ بندی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور واشنگٹن تہران کے ساتھ براہِ راست جنگ نہیں چاہتا ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ امریکا کے ’پروجیکٹ فریڈم‘ نامی بحری آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی بحالی کے لیے ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ایران نے حملے جاری رکھے تو اسے امریکا کی بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے منگل کو پینٹاگون میں نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کسی مطالبے پر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ امریکا اب بھی برتر پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ عارضی نوعیت کا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی کو ایرانی جارحیت سے بچانا اور عالمی تجارت کے لیے اس اہم راستے کو دوبارہ کھولنا ہے۔

نیوز بریفنگ میں ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی تفصیلات واضح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دھمکیاں کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ بلا امتیاز تمام اقوام کے لیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جارحانہ پالیسیوں نے عالمی بحری ٹریفک کو مفلوج کر رکھا ہے، تاہم اب سینکڑوں مزید بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے قطار میں موجود ہیں اور امریکا ان کی بحفاظت ترسیل کو یقینی بنائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ جنگ نے واضح کیا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے آغاز کا مطلب ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کا خاتمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’جنگ بندی برقرار ہے، یہ آپریشن ایک الگ اور مخصوص مشن ہے جس کا مقصد صرف تجارتی جہاز رانی کو ایرانی جارحیت سے بچانا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے جنوبی کوریا، جاپان اور یورپ بھی اس آپریشن میں ہمارا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے ایران کو مشورہ دیا کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرے اور ایسی کارروائیوں سے گریز کرے جو دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا سبب بن سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک طاقتور ’سرخ، سفید اور نیلا گنبد‘ (دفاعی و نگرانی کا حصار) قائم کر دیا ہے جو 24 گھنٹے تجارتی جہازوں کی نگرانی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو امریکی تجارتی جہازوں کی اس راستے سے محفوظ منتقلی اس بات کا ثبوت ہے کہ اب یہ راستہ صاف ہے۔

امریکی فوج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے ایران نے نہ صرف امریکی افواج کو نشانہ بنایا بلکہ 9 مرتبہ تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کی اور 2 کنٹینر بردار جہازوں کو بھی قبضے میں لیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ تمام کارروائیاں اس وقت تک ”لو ہراسنگ فائر“ (کم درجے کی اشتعال انگیزی) کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایران محض ’تکے‘ لگا رہا ہے۔

جنرل ڈین کین نے کہا کہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکری طور پر ہم صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن حتمی حکم سیاسی قیادت کی جانب سے آئے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز باضابطہ طور پر اس آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے ایران نے اس گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس سے عالمی تجارت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

منگل کے روز خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے نے خطے میں جاری نازک جنگ بندی کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں اور خطے کے دیگر ممالک کی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔ ایران کی جانب سے تاحال ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں اپنی حدود کے قریب کسی بھی غیر ملکی فوجی مداخلت کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دے چکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles