اسرائیلی صدر کی گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت، نیتن یاہو کو بڑا سیاسی دھچکا

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں، صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت بنانے کا اختیار دینے کا فیصلہ کرلیا، جبکہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت بنانے کی کوششوں کو فی الحال کامیابی نہیں مل سکی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ اپوزیشن جماعت یاشار کے سربراہ گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کا مینڈیٹ دیں گے۔ انہیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے صدر کی رہائش گاہ پر باضابطہ طور پر حکومت سازی کا اختیار دیا جائے گا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ حالیہ انتخابی نتائج کے بعد کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔

تاہم صدر کی جانب سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے دوران گادی آئزنکوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ بینجمن نیتن یاہو کے حق میں 46 ارکان نے سفارش کی۔ 7 ارکان پر مشتمل ایک جماعت نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔

گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کے لیے 28 دن دیے جائیں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر صدر انہیں مزید 14 دن کی مہلت بھی دے سکتے ہیں۔ اگر وہ مقررہ مدت میں حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہے تو اسرائیل میں حکومت سازی کے لیے کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے، جبکہ تمام کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں نئے انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب عرب جماعتوں نے بھی گادی آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کی دو عرب جماعتوں کے پاس مجموعی طور پر 19 نشستیں ہیں، جن کی حمایت نے آئزنکوٹ کو حکومت سازی کے لیے درکار پارلیمانی حمایت حاصل کرنے کے امکانات فراہم کیے ہیں۔ تاہم عرب جماعتوں کی حمایت کے باوجود ان کے ممکنہ حکومتی اتحاد میں شمولیت اور تعاون کے طریقہ کار پر اختلافات موجود ہیں۔

ادھر وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم صدر کی جانب سے گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دینے کے فیصلے کے بعد فی الحال انہیں یہ موقع نہیں ملا۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ عرب جماعتوں کی حمایت سے بننے والی حکومت اسرائیل کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی حکومت کے ساتھ اسرائیل کا مستقبل محفوظ نہیں رہے گا۔

اسرائیل میں حالیہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث پیچیدہ صورت اختیار کرگیا ہے اور اب تمام نظریں گادی آئزنکوٹ پر مرکوز ہیں کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک اتحاد میں شامل کرکے نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles