
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے ایس ایچ او فیروزآباد کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میر رضا کا قتل کراچی میں ہوا، اس لیے مزید شواہد جمع کیے جاسکتے ہیں۔
ہفتے کو کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میر رضا کیس کے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ انہوں نے جے آئی ٹی کو متعلقہ پولیس افسر، میر رضا کے قریبی افراد اور کاروباری شراکت داروں کے کردار سے متعلق اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او فیروزآباد کا کردار مشکوک ہے جب کہ بزنس پارٹنر احمد اور دیگر افراد کو بعض معاملات کے بارے میں اتنی معلومات کیسے تھیں، یہ بھی ایک اہم سوال ہے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا سے جڑے قریبی افراد کے کردار سے متعلق بھی جے آئی ٹی کو آگاہ کیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق میر رضا کے والد نے بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے، ڈی آئی جی عرفان علی بلوچ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ضرورت پڑنے پر انہیں دوبارہ بلایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میر رضا کا قتل کراچی میں ہوا ہے، اس لیے واقعے سے متعلق مزید شواہد جمع کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث افراد کو سامنے لایا جائے اور واقعے کے تمام حقائق واضح کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قاتل ہمارے سامنے لائے جائیں۔
میر رضا قتل کیس کی جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس
دوسری جانب میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے محکمہ داخلہ سندھ کے حکم پر تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کا پہلا اجلاس ڈی آئی جی ویسٹ آفس میں ہوا، جس میں مقتول کے اہل خانہ بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کی سربراہی ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان علی بلوچ نے کی جب کہ آئی ایس آئی، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
متعلقہ اداروں کے گریڈ 18 یا اس سے زائد کے افسران کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی۔ جے آئی ٹی نے میر رضا کے اہل خانہ کا مؤقف ریکارڈ کیا اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیا۔
میر رضا قتل کیس کا مقدمہ تھانہ فیروزآباد میں درج ہے جب کہ جے آئی ٹی کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور شواہد کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کے 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو گھر سے روانہ ہوئے تھے تاہم اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے ملی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے میں خودکشی کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم اہل خانہ نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
بعد ازاں کیس میں شواہد کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے 8 اگست کو قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم بھی کرایا گیا جب کہ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کے زخم اور اس کے جسم سے گزرنے کے راستے سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں، جنہیں خودکشی کے ابتدائی مؤقف سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ اس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کی گئی۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے 24 اگست کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا تاہم کمیشن نے واقعے کے حالات، پولیس کی ابتدائی تفتیش، طبی شواہد اور شواہد جمع کرنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔
2 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے اہلِ خانہ کی جانب سے آزاد اور کثیر ادارہ جاتی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔
20 اکتوبر کو کمیشن نے 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس کی تفتیش کو شدید ناکامی قرار دیا جب کہ کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا کی موت کو قتل قرار دیا گیا اور پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے اور ممکنہ غفلت یا شواہد میں رد و بدل کے پہلوؤں کی جانچ کی سفارش بھی کی گئی۔
عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں 24 اکتوبر کو سندھ حکومت نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی، جے آئی ٹی میں رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم کو واقعے سے متعلق شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے سوالات کا جواب تلاش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
بعد ازاں تحقیقات کے دائرے میں ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینے کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کو بھی جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا تھا تاکہ موبائل فون، سوشل میڈیا اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ سمیت تکنیکی شواہد کی جانچ کی جاسکے۔
اب جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں اہل خانہ کا مؤقف ریکارڈ کیے جانے اور جبران ناصر کی جانب سے پولیس افسران، قریبی افراد اور کاروباری شراکت داروں سے متعلق تحفظات سامنے آنے کے بعد تحقیقات میں ان پہلوؤں کا جائزہ بھی اہم ہوگا۔