
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 میں ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 8 نومبر کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے جب کہ معاملے کی تحقیقات مکمل ہونے تک حلقے کا انتخابی نتیجہ روکے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب لاہور کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ این اے-77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ عطا اللہ تارڑ نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار راشد بشیر ورک کی انتخابی مہم میں شرکت کی جب کہ وفاقی وزرا کی انتخابی مہم میں شرکت ضابطہ اخلاق کے پیرا 18 اور 41 کی خلاف ورزی ہے۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ انتخابی مہم پر پابندی کے دوران شرکت پر عطا اللہ تارڑ کو الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 182 کے تحت بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے اور وفاقی وزیر کو 8 نومبر کو صبح 11 بجے ذاتی حیثیت میں اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔
ترجمان صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب نے کہا کہ امیدوار کی عدم پیشی کی صورت میں دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر یکطرفہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے انتخابی حلقے کا دورہ کرنے اور ایک اجتماع میں شرکت کرنے کے معاملے پر ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر سے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق معاملے کی انکوائری اور حتمی فیصلے تک این اے 77 گوجرانوالہ کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ روکا بھی جاسکتا ہے۔
صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخاب کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
این اے 77 میں 8 نومبر کو ضمنی انتخاب
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 77 گوجرانوالہ میں ضمنی انتخاب 8 نومبر کو ہوگا، جس میں 11 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے راشد بشیر ورک، پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قاضی ابراہیم گجر اور پاکستان نظریاتی پارٹی کے طیب محمود سمیت آزاد امیدوار بھی میدان میں ہیں۔
حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 5 لاکھ 18 ہزار 620 ہے، جن میں 2 لاکھ 77 ہزار 480 مرد اور 2 لاکھ 41 ہزار 140 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
انتخابی مہم ختم، جلسوں اور اجتماعات پر پابندی
الیکشن کمیشن نے این اے 77 گوجرانوالہ اور پی پی 203 ساہیوال میں ضمنی انتخابات کے لیے امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو 6 اور 7 نومبر کی درمیانی شب تک انتخابی مہم ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 کے تحت انتخابی مہم ختم ہونے کے بعد پولنگ کے اختتام کے بعد آنے والی نصف شب تک 48 گھنٹوں کے دوران متعلقہ حلقوں میں کوئی شخص عوامی اجتماع منعقد نہیں کرسکتا، نہ کسی اجتماع میں شرکت اور نہ ہی کسی جلوس کی تشہیر یا اس میں شرکت کرسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو دو سال تک قید، ایک لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔
واضح رہے کہ این اے 77 کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے 8 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔