پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں دوگنا ہوکر 135 ارب ڈالر ہوگیا: ورلڈ بینک

پاکستان کے بیرونی قرضوں میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ملک کا مجموعی بیرونی قرض بڑھ کر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرض 2015 میں 68 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135 ارب 10 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ذمے سرکاری قرضوں اور حکومتی ضمانتوں کے تحت 107 ارب 7 کروڑ ڈالر کے بیرونی قرضے واجب الادا ہیں، جبکہ نجی شعبے کا غیر ضمانتی بیرونی قرض 17 ارب 58 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کے قلیل مدتی بیرونی قرضوں کا حجم بھی بڑھ کر 10 ارب 45 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کے پاکستان پر مجموعی طور پر 56 ارب 83 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔

قرض فراہم کرنے والے ممالک اور اداروں میں چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ ہے، جس کے پاکستان پر 22 ارب 40 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔ ورلڈ بینک 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کے قرض کے ساتھ دوسرا بڑا قرض دہندہ ہے، جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے پاکستان پر 16 ارب 83 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری قرض خواہوں سے حاصل کیے گئے قرضوں کی اوسط مدت ادائیگی 16 سال ہے، جبکہ ان قرضوں پر اوسط شرح سود 3.6 فیصد مقرر ہے۔ ان قرضوں پر رعایتی مدت بھی چار سال ہے، جس کے دوران قرض کی اصل رقم کی ادائیگی میں مہلت حاصل ہوتی ہے۔

دوسری جانب نجی شعبے کے بیرونی قرضوں پر اوسط شرح سود سرکاری قرضوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو 8.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ نجی قرضوں کی اوسط مدت ادائیگی تین سال جبکہ رعایتی مدت صرف ایک سال ہے۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے بیرونی قرضوں کی شرائط میں نمایاں فرق موجود ہے، جہاں سرکاری قرضوں کی ادائیگی کے لیے نسبتاً طویل مدت اور کم شرح سود دستیاب ہے، جبکہ نجی قرضوں پر شرح سود زیادہ اور ادائیگی کی مدت کم ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles