پاکستان پوسٹ میں مبینہ غیرقانونی بھرتیاں، اسعد محمود کو نیب نے طلب کر لیا


قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیرقانونی بھرتیوں کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو طلب کرلیا ہے۔
نیب راولپنڈی کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق اسعد محمود کے دور وزارت میں 2022 اور 2023 کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) بھی ان بھرتیوں میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کررہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس میں 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تھی، تاہم مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد کو ملازمتیں دی گئیں۔
نیب کے نوٹس میں 2 ہزار 646 ختم شدہ آسامیوں پر بھرتیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ تحقیقات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان تقرریوں کے دوران کابینہ کمیٹی کی ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا۔
بھرتیاں ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے کنٹریکٹ بنیادوں پر کرنے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں کی گئیں۔

تحقیقاتی معاملے میں مستقل بھرتیوں کے باعث پاکستان پوسٹ آفس پر اضافی مالی بوجھ پڑنے اور بعض امیدواروں کے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر منتخب ہونے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جعلی اور بوگس دستاویزات کے استعمال، زائد العمر امیدواروں کی بھرتیوں اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیوں سے متعلق الزامات کی بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
نیب کے نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 31 کے تحت قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مبینہ مالی معاون محمد اکرم خان پانیزئی کے خلاف بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انکوائری شروع کردی ہے۔
ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کی جانب سے انہیں متعدد طلبی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے نے محمد اکرم خان پانیزئی کو 2 نومبر کو متعلقہ دستاویزات اور شواہد کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کی تھی، تاہم سابقہ نوٹس کے تسلسل میں انہیں دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کرکے بدھ کو انکوائری میں پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق محمد اکرم خان پانیزئی کو انکوائری میں اپنا مؤقف پیش کرنے اور متعلقہ دستاویزی و ڈیجیٹل شواہد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایف آئی اے نے عدم حاضری کی صورت میں قانونی کارروائی سے بھی خبردار کیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles