ایران پر ایٹمی حملہ ہوا تو پاکستان کیسے متاثر ہوگا؟


امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ پر ممکنہ عسکری یا ایٹمی حملے سے متعلق خدشات اور بحث میں شدت آ گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں سنگین تابکاری کے پھیلنے کے خطرات پر عالمی ماہرین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پک ایکس ماؤنٹین پر ممکنہ حملے کی صورت میں صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اگر امریکی یا اسرائیلی حملے میں پک ایکس ماؤنٹین کو جوہری ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا اور دھماکے کے نتیجے میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا تو ہواؤں کے ذریعے یہ تابکار ذرات افغانستان سے ہوتے ہوئے پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
تاہم اس کا انحصار دھماکے کی نوعیت، زیرِ زمین تنصیب کو پہنچنے والے نقصان، تابکار مادے کے اخراج، ہواؤں کی سمت اور بارش پر ہوگا۔

اس ممکنہ صورت حال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے باوجود جوہری دھماکے کے اثرات پاکستان کی آبادی، زراعت، پانی اور ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں؟ کیا بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ تک تابکار آلودگی پہنچ سکتی ہے؟ اور اگر ایسا ہوا تو عام شہریوں کی صحت اور روزمرہ زندگی پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
ان سوالات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ پک ایکس ماؤنٹین کیا ہے اور اس کی جغرافیائی اہمیت کیا ہے۔
ایران کے صوبہ اصفہان میں واقع پہاڑ ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو فارسی میں ’کوہِ کلنگ گز لا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب میں اور ایران کے اہم جوہری مرکز نطنز سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس پہاڑ کے اندر ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین تنصیب موجود ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اسے جدید سینٹری فیوجز کی تیاری یا جوہری پروگرام سے متعلق دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سینٹری فیوجز وہ مشینیں ہیں جن کے ذریعے یورینیم کو افزودہ کیا جاتا ہے، یعنی اس میں موجود مخصوص آئسوٹوپ کی مقدار بڑھائی جاتی ہے۔
افزودہ یورینیم کو جوہری توانائی اور مخصوص سطح پر مزید افزودگی کے بعد جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پہاڑ کے اندر زیرِ زمین تنصیبات کم از کم 100 میٹر گہرائی میں بنائی جا رہی ہیں۔ اس کے گرد موجود سخت گرینائٹ چٹانیں اسے فضائی حملوں سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
امریکی تحقیقی ادارے سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی آیس آئی ایس) کے سیٹلائٹ جائزے کے مطابق بھی وہاں تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں اور تنصیب ابھی مکمل طور پر فعال نہیں دکھائی دیتی۔
پک ایکس ماؤنٹین کی جغرافیائی اہمیت پاکستان کے لیے اس وجہ سے بھی ہے کہ یہ ایران کے وسطی حصے میں واقع ہے اور پاکستان کے مغرب میں افغانستان کے قریب ہے۔
اگر یہاں ہونے والے کسی جوہری دھماکے سے تابکار مادہ فضا میں خارج ہو اور ہوائیں مشرق کی جانب چل رہی ہوں تو یہ ذرات مشرقی ایران سے افغانستان اور وہاں سے پاکستان کے مغربی یا شمالی علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

لیکن کیا جوہری دھماکے کے بعد تابکاری واقعی اتنی دور تک سفر کر سکتی ہے؟
اس کا جواب سمجھنے کے لیے پہلے تابکار اثرات یا ’ریڈیو ایکٹو فال آؤٹ‘ کو سمجھنا ہوگا۔
عام طور پر جب کسی جوہری ہتھیار سے دھماکا ہوتا ہے تو اس سے شدید حرارت، دباؤ کی لہر اور تابکاری پیدا ہوتی ہے۔ دھماکے کے مقام پر موجود مٹی، پتھر اور دوسری اشیا انتہائی درجہ حرارت کے باعث بخارات یا باریک ذرات میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ یہ ذرات جوہری دھماکے سے پیدا ہونے والے تابکار مادوں کے ساتھ مل کر فضا میں بلند ہو جاتے ہیں۔
بعد میں جب یہ مواد ٹھنڈا ہوتا ہے تو اس کے ذرات زمین پر واپس گرنے لگتے ہیں۔ تابکار مادوں اور ان سے آلودہ مٹی کے ان ذرات کے زمین پر واپس آنے کے عمل کو ریڈیو ایکٹو فال آؤٹ کہا جاتا ہے۔
ان میں سے کچھ ذرات نسبتاً بڑے ہوتے ہیں اور دھماکے کے قریب ہی زمین پر گر جاتے ہیں، جبکہ انتہائی باریک ذرات فضا میں زیادہ دیر تک معلق رہ سکتے ہیں۔ تیز ہوائیں انہیں سیکڑوں کلومیٹر دور تک لے جا سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جوہری دھماکے کے اثرات صرف اس مقام تک محدود نہیں رہتے جہاں ہتھیار استعمال کیا گیا ہو۔

امریکی اداروں سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اور ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے مطابق جوہری دھماکے سے پیدا ہونے والے تابکار ذرات طویل فاصلے تک سفر کر سکتے ہیں، تاہم ان کی مقدار اور شدت فاصلے، موسمی حالات اور فضا میں ان کے پھیلاؤ کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
اس عمل میں بارش بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر تابکار ذرات سے بھرا ہوا بادل کسی علاقے کے اوپر سے گزر رہا ہو اور وہاں بارش ہو جائے تو پانی کے قطرے ان ذرات کو اپنے ساتھ زمین پر گرا سکتے ہیں۔ اس طرح کسی مخصوص علاقے میں تابکار آلودگی زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے آس پاس کے علاقوں میں نسبتاً کم آلودگی پھیل سکتی ہے۔ اسے ’ویٹ ڈیپوزیشن‘ یا بارش کے ذریعے تابکار ذرات کا زمین پر جمع ہونا کہا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ جوہری دھماکے کے بعد تابکار ذرات کا پھیلاؤ کسی دائرے کی شکل میں یکساں نہیں ہوتا۔ اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ دھماکا کس مقام پر ہوا، فضا میں مختلف بلندیوں پر ہوائیں کس سمت چل رہی ہیں اور راستے میں بارش یا دیگر موسمی تبدیلیاں کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں۔
اسی لیے صرف ایران اور پاکستان کے درمیان فاصلے کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کتنا متاثر ہوگا۔
پاکستان کے کن علاقوں تک تابکاری پہنچ سکتی ہے؟
اگر پک ایکس ماؤنٹین پر ممکنہ جوہری حملے کے بعد تابکار ذرات مشرق کی جانب سفر کریں تو سب سے پہلے ایران کے مشرقی علاقوں اور اس کے بعد افغانستان کے بعض حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے بعد پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقے ممکنہ طور پر اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے ایران کے ساتھ براہِ راست سرحد رکھتا ہے، اس لیے اگر تابکار بادل مشرق کی جانب بڑھے تو صوبے کے مغربی اور شمالی اضلاع ممکنہ طور پر ابتدائی متاثرہ علاقوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا بھی ممکنہ راستے میں آ سکتا ہے، خصوصاً اگر تابکار ذرات افغانستان کے راستے شمال مشرق کی جانب بڑھیں۔
اگر یہ بادل مزید مشرق کی طرف سفر کرتا رہے تو پنجاب کے بعض علاقوں تک بھی نسبتاً کم مقدار میں تابکار ذرات پہنچنے کا امکان ہو سکتا ہے۔
اسی طرح سندھ اور کراچی تک ان ذرات کی رسائی بھی مکمل طور پر خارج از امکان نہیں، لیکن اس کے لیے مخصوص فضائی حالات اور طویل فاصلے تک تابکار بادل کے برقرار رہنے کی ضرورت ہوگی۔
یہاں واضح رہنا چاہیے کہ یہ جغرافیائی امکانات ہیں، کسی سائنسی ماڈل کی بنیاد پر تیار کردہ حتمی پیش گوئی یا تابکاری کا نقشہ نہیں۔
کسی ممکنہ دھماکے کے بعد حقیقی صورت حال کا اندازہ فضا میں موجود تابکار مادے کی پیمائش اور موسمیاتی ڈیٹا سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔
تاہم پاکستان کے لیے اصل تشویش صرف یہ نہیں ہوگی کہ تابکار ذرات کہاں تک پہنچتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہوگی کہ ان کی مقدار کتنی ہے اور وہ انسانی صحت، خوراک اور پانی پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انسانی صحت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟
تابکار آلودگی انسانی جسم میں دو بنیادی طریقوں سے داخل ہو سکتی ہے۔ ایک یہ کہ انسان آلودہ زمین، عمارتوں یا دیگر سطحوں پر موجود تابکار مادوں سے خارج ہونے والی شعاعوں کی زد میں آئے۔ دوسرا یہ کہ وہ آلودہ ہوا میں موجود باریک ذرات سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کر لے یا آلودہ پانی اور خوراک استعمال کرے۔
تابکاری کی مقدار زیادہ ہو تو انسانی جسم کے خلیات اور اعضا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید تابکاری کی زد میں آنے سے بون میرو، یعنی ہڈیوں کے گودے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جہاں خون کے خلیات بنتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے اور بعض صورتوں میں شدید تابکاری بیماری بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
طویل عرصے تک یا مخصوص مقدار میں تابکاری کی زد میں رہنے سے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ تابکار آیوڈین خاص طور پر تھائیرائڈ گلینڈ میں جمع ہو سکتا ہے، جو گردن میں موجود ایک اہم غدود ہے اور جسم کے میٹابولزم کو کنٹرول کرنے والے ہارمونز بناتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ فضا یا زمین پر تابکار مادے کے معمولی ذرات کی موجودگی سے ہر شخص بیمار ہو جائے گا۔ صحت پر اثرات کا انحصار تابکاری کی اصل مقدار، اس کی نوعیت اور انسان کے اس کی زد میں رہنے کے دورانیے پر ہوتا ہے۔
زراعت اور خوراک کا نظام کیسے متاثر ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے لیے ممکنہ جوہری آلودگی کا ایک بڑا خطرہ زراعت اور خوراک کی فراہمی سے متعلق ہو سکتا ہے۔
اگر تابکار ذرات پاکستان کے کسی زرعی علاقے میں زمین پر جمع ہو جائیں تو گندم، چاول، سبزیوں، پھلوں، چارے اور چراگاہوں پر ان کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ ذرات بعض صورتوں میں پودوں کی سطح پر جمع ہو جاتے ہیں اور کچھ مخصوص تابکار عناصر مٹی میں شامل ہو کر پودوں کے ذریعے خوراک کے نظام میں داخل ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر تابکار آیوڈین جانوروں کے چارے کے ذریعے دودھ میں منتقل ہو سکتا ہے، جبکہ تابکار سیزیم مٹی اور نباتات میں جمع ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورت میں متاثرہ علاقوں سے حاصل ہونے والی خوراک اور دودھ کی جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔

حکام کو یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ کن علاقوں کی فصلیں، دودھ، گوشت اور دیگر غذائی اشیا انسانی استعمال کے لیے محفوظ ہیں اور کن پر عارضی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے۔
اس کا اثر صرف انسانی صحت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسانوں کی آمدنی، زرعی تجارت، غذائی سپلائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
اگر کسی زرعی علاقے میں تابکار آلودگی کی تصدیق ہو جائے تو وہاں کی پیداوار کی نقل و حمل اور فروخت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے علاقوں سے خوراک کی فراہمی بڑھانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
کیا پاکستان کے دریاؤں اور پینے کے پانی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے؟
پاکستان کا زرعی اور معاشی نظام دریاؤں، آبی ذخائر، نہروں اور زیرِ زمین پانی پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ اگر تابکار ذرات ایسے علاقوں میں جمع ہوں جہاں پانی کے ذخائر، دریاؤں کے طاس یا آبپاشی کے نظام موجود ہوں تو پینے کے پانی اور زرعی استعمال کے پانی کی جانچ ضروری ہو جائے گی۔
اس مقصد کے لیے دریاؤں، ڈیموں، زیرِ زمین پانی، آبپاشی کی نہروں اور پینے کے پانی کے ذرائع میں تابکار مادوں کی موجودگی کی پیمائش کرنا ہوگی۔

لیکن اس حوالے سے ایک اہم غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ایران میں جوہری دھماکے کے نتیجے میں دریائے سندھ یا پاکستان کے تمام آبی ذخائر لازماً آلودہ ہو جائیں گے۔ تابکار ذرات کہاں گرتے ہیں، پانی کس سمت بہتا ہے اور آلودگی کی مقدار کتنی ہے، ان عوامل سے ہی حقیقی خطرے کا تعین ہوگا۔
لیکن کیا زیرِ زمین جوہری دھماکے سے بھی پاکستان تک تابکاری پہنچ سکتی ہے؟
یہ اس پورے معاملے کا سب سے اہم تکنیکی پہلو ہے، کیونکہ پک ایکس ماؤنٹین کی تنصیب زمین کی سطح پر نہیں بلکہ پہاڑ کے اندر گہرائی میں تعمیر کی جا رہی ہے۔
اگر کوئی جوہری دھماکا پہاڑ کے اندر ہو اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تابکار مادہ زیرِ زمین ہی محصور رہے تو فضا میں خارج ہونے والی تابکاری کی مقدار نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں پاکستان تک تابکار ذرات پہنچنے کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر دھماکے سے پہاڑ کی چٹانوں میں بڑی دراڑیں پڑ جائیں، زیرِ زمین سرنگیں تباہ ہو جائیں یا دھماکے کی شدت سے تابکار مواد باہر نکلنے کے راستے بن جائیں تو صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں تابکار مادہ فضا میں خارج ہو کر ہواؤں کے ذریعے دور دراز علاقوں تک سفر کر سکتا ہے۔
یہاں زیرِ زمین اور سطح پر ہونے والے جوہری دھماکوں کے درمیان فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔
سطح کے قریب ہونے والے جوہری دھماکے میں اردگرد کی مٹی، چٹانیں اور دوسری اشیا بڑی مقدار میں تابکار ذرات کے ساتھ فضا میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے دھماکے میں فال آؤٹ کا خطرہ عموماً زیادہ ہوتا ہے۔
اس کے برعکس اگر زیرِ زمین دھماکا مکمل طور پر محصور رہے تو اس کا زیادہ تر تابکار مواد زمین کے اندر رہ سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ زیرِ زمین دھماکا لازماً محفوظ یا بے ضرر ہوگا۔ اس سے مقامی سطح پر شدید تباہی، زمین میں دراڑیں اور تابکار مادے کے اخراج کا خطرہ موجود رہ سکتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کسی سینٹری فیوج تنصیب کو تباہ کرنا اور کسی فعال جوہری ری ایکٹر یا بڑی مقدار میں جوہری ایندھن کو تباہ کرنا ایک جیسی صورت حال نہیں۔
اگر پک ایکس ماؤنٹین کی تنصیب ابھی فعال نہیں اور وہاں بڑی مقدار میں تابکار جوہری مواد موجود نہیں تو اس تنصیب کے اندر موجود مواد سے پیدا ہونے والی اضافی آلودگی محدود ہو سکتی ہے۔ تاہم جوہری ہتھیار کے دھماکے سے خود پیدا ہونے والے تابکار مادے کا خطرہ اپنی جگہ موجود ہوگا۔
پاکستان کو ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟

اگر ایران میں ایٹمی حملہ ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے سب سے اہم ضرورت درست معلومات، بروقت نگرانی اور سائنسی بنیادوں پر ہنگامی اقدامات ہوں گے۔ پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (پی این آرے)، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور صحت کے متعلقہ اداروں کو مل کر تابکاری کی نگرانی کا نظام فعال کرنا ہوگا۔
خصوصاً بلوچستان اور پاکستان کے مغربی علاقوں میں تابکاری کی پیمائش کے ساتھ فضا میں مختلف بلندیوں پر ہواؤں کی سمت اور رفتار کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق زرعی پیداوار، دودھ، گوشت، پینے کے پانی اور دیگر غذائی اشیا کے نمونے لے کر ان میں تابکار مادوں کی جانچ کی جا سکتی ہے۔
اگر کسی علاقے میں خطرناک سطح کی تابکاری کی تصدیق ہو تو وہاں کے لوگوں کو محفوظ عمارتوں میں رہنے، آلودہ مٹی اور گردوغبار سے بچنے اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔
صورت حال کی شدت کے مطابق بعض مقامات سے لوگوں کو عارضی طور پر منتقل کرنے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
اس حوالے سے ایک اہم احتیاط ’پوٹاشیم آئیوڈائیڈ‘ کی گولیوں سے متعلق ہے۔ بعض افراد سمجھتے ہیں کہ جوہری دھماکے کی صورت میں یہ گولیاں ہر قسم کی تابکاری سے بچا سکتی ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔
یہ دوا صرف تابکار آیوڈین کے اثرات سے تھائیرائڈ گلینڈ کو جزوی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ دیگر تابکار مادوں یا تمام اقسام کی تابکاری سے حفاظت نہیں کرتی۔ اسے صرف اس وقت استعمال کرنا چاہیے جب متعلقہ صحت یا ہنگامی ادارے اس کی ہدایت دیں۔
تو کیا پاکستان کے لیے یہ واقعی ایک بڑا خطرہ ہے؟
اس سوال کا جواب کسی ایک لفظ میں دینا ممکن نہیں، کیونکہ ممکنہ خطرے کا انحصار اس بات پر ہے کہ جوہری دھماکا کس نوعیت کا ہوگا، کتنا تابکار مادہ فضا میں خارج ہوگا اور اس وقت ہوائیں کس سمت چل رہی ہوں گی۔
اگر دھماکا زیرِ زمین محدود رہے اور تابکار مواد پہاڑ کے اندر محصور ہو جائے تو پاکستان میں بڑے پیمانے پر تابکار آلودگی پھیلنے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر دھماکے سے پہاڑ کی چٹانیں ٹوٹ جائیں اور بڑی مقدار میں تابکار مواد فضا میں خارج ہو تو سرحد پار اس کے اثرات پہنچنے کا امکان موجود رہے گا۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر تابکار ذرات پاکستان پہنچ جائیں تو پورا ملک یکساں طور پر متاثر ہو۔ ممکن ہے بعض علاقوں میں تابکار مادوں کی مقدار قابلِ توجہ ہو جبکہ دوسرے علاقوں میں اس کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہو۔ اسی طرح کسی مقام پر تابکاری کی معمولی مقدار کا پتا چلنا بذاتِ خود انسانی صحت کے لیے فوری خطرے یا ہنگامی صورت حال کا ثبوت نہیں ہوتا۔
اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب تابکاری کی مقدار انسانی صحت، خوراک یا پانی کے لیے مقررہ حفاظتی حدود سے تجاوز کرے۔
اس لیے پاکستان کے لیے سب سے اہم چیز خوف یا غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے سائنسی نگرانی، شفاف سرکاری معلومات اور ہنگامی تیاری ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles