
امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے نتائج کو مکمل طور پر قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مخالف جماعت ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی نے تاریخی انتخابی شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا ہے۔
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکنز کے روایتی مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے بعض حلقوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان نتائج کو مکمل طور پر قبول کرتے ہیں اور مخالف جماعت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں ممکنہ طور پر کسی نہ کسی اتفاقِ رائے تک پہنچ جائیں گی۔
اس مفاہمتی بیان کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تھروتھ سوشل‘ پر انتخابی ناکامیوں کا ملبہ اپنی پارٹی کے بعض رہنماؤں اور فاکس نیوز پر ڈال دیا۔
صدر ٹرمپ نے لکھا کہ وہ اب ایک سیاسی مبصر بن کر امیدواروں کی جیت اور شکست پر رائے دیں گے۔
انہوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ گزشتہ چھ ماہ میں صرف نام کے ریپبلکن نہ بنے ہوتے تو الیکشن نہ ہارتے۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز پر ڈیموکریٹ شخصیات کو مسلسل جگہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی جس پر ’ویٹو‘ تحریر تھا، جو بظاہر ڈیموکریٹس کی زیرِ کنٹرول آنے والی آئندہ کانگریس کی قانون سازی کو صدارتی اختیار سے روکنے کا اشارہ ہے۔
اس کے علاوہ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چونکہ ان کا نام خود بیلٹ پیپر پر نہیں تھا، اس لیے اگر وہ خود میدان میں ہوتے تو پارٹی بھاری اکثریت سے جیت جاتی۔
دوسری جانب انتخابی نتائج واضح ہونے پر ریپبلکن پارٹی کے رہنماؤں اور حکمتِ عملی سازوں نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول کھونے کا تمام تر ملبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ڈال دیا ہے۔
ڈیموکریٹس نے ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا، آئیووا اور اوہائیو جیسی ریاستوں میں سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کی اہم نشستوں پر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں وہ برسوں اور دہائیوں سے فتح حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔
ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے طویل المدتی ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے کہا کہ اس شکست کی تمام تر ذمہ داری صرف صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہ ووٹرز کی جانب سے انہیں مکمل طور پر مسترد کیے جانے کا نتیجہ ہے۔
ریپبلکنز کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت، غیر مقبول انتظامی پالیسیوں اور مہنگائی کے حوالے سے عوام کی شدید تشویش کو مسلسل نظر انداز کرنے کے رویے نے پارٹی کو شدید سیاسی نقصان پہنچایا ہے۔
منیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی کے ماہر گریگ پیپن نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ایک کے بعد ایک غلطی کی گئی اور مختلف ریاستوں میں عوام نے صدر کی پالیسیوں کو ناپسند کیا ہے۔