
یورپ کے تین ممالک میں چار مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے پر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی جن میں برطانیہ سے روانہ ہونے والی دو پروازیں بھی شامل ہیں۔
خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق منگل کو وارسا، صوفیہ، روم اور اسپین کے شہر مرسیا کے ہوائی اڈوں پر جانے والی پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اس سے ایک روز قبل صوفیہ جانے والی ایک اور پرواز کو بھی ایسی ہی دھمکی دی گئی تھی۔
پولینڈ کے وارسا موڈلن ایئرپورٹ کو منگل کی صبح اس وقت عارضی طور پر بند کردیا گیا جب لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے آنے والی پولش ایئرلائن ایل او ٹی کی پرواز کا رخ تبدیل کرکے وہاں اتارا گیا۔ یہ طیارہ وارسا کے شوپن ایئرپورٹ پر اترنے والا تھا۔
بوئنگ 737 میکس طیارے میں 181 مسافر سوار تھے۔ صبح 9 بج کر 54 منٹ پر بم کی موجودگی سے متعلق الرٹ جاری کیا گیا، جس کے سات منٹ بعد طیارے نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی تلاشی کے دوران کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی اور دوپہر 12 بج کر 21 منٹ پر بم کی دھمکی ختم قرار دے دی گئی۔ بعد ازاں ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا۔
ایل او ٹی ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق مسافروں کو کوچز کے ذریعے وارسا شوپن ایئرپورٹ منتقل کردیا گیا۔
اسی دوران کوپن ہیگن سے وارسا جانے والی اسکینڈینیوین ایئرلائن کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی، تاہم طیارے نے وارسا شوپن ایئرپورٹ پر لینڈنگ کی۔ بعد ازاں حکام نے طیارے کی تلاشی کے بعد کسی بھی دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تردید کردی۔
اسپین کے جنوب مشرقی شہر مرسیا کے ہوائی اڈے پر بھی مانچسٹر سے آنے والے ریان ایئر کے طیارے کو بم کی دھمکی کے باعث ہنگامی طور پر اتارا گیا۔ طیارے میں 114 مسافر اور عملے کے سات ارکان سوار تھے، جنہیں بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
اسپین کی سول گارڈ نے طیارے کی تلاشی کے بعد دھماکا خیز مواد کی موجودگی کو خارج از امکان قرار دیا۔ علاقے میں ہسپانوی حکومت کے نمائندے فرانسسکو لوکاس نے سوشل میڈیا پر بھی اس کی تصدیق کی۔
بلغاریہ کے وزیر ٹرانسپورٹ جارجی پیف کے مطابق صوفیہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو طیاروں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، تاہم کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ ان میں سے ایک پرواز اٹلی کے شہر برگامو اور دوسری آئرلینڈ کے شہر ڈبلن سے آرہی تھی۔
برگامو سے آنے والی وِز ایئر کی پرواز میں 176 مسافر سوار تھے، جب کہ ڈبلن سے آنے والے ریان ایئر کے طیارے میں 185 مسافر موجود تھے۔ دونوں طیاروں کی لینڈنگ کے بعد انسداد دہشت گردی کے خصوصی یونٹ نے تلاشی لی۔
ادھر پرتگال کے دارالحکومت لزبن سے روم جانے والی ریان ایئر کی پرواز کو بھی طیارے میں بم کی اطلاع پر روم کے فیومیچینو ایئرپورٹ پر اتارا گیا۔ حکام کے مطابق ای میل کے ذریعے بم کی دھمکی موصول ہوئی تھی، تاہم تلاشی میں کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
ڈبلن سے روم جانے والی ریان ایئر کی ایک اور پرواز کو بھی بم کی دھمکی دی گئی، تاہم اس طیارے سے بھی کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
برطانیہ کی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک میں فضائی سفر کی سیکیورٹی کا مضبوط نظام موجود ہے اور ممکنہ خطرات کے ساتھ ساتھ جھوٹی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے بھی مؤثر طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے ایسے خطرات کا جائزہ لینے اور ان سے نمٹنے کے لیے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
ایئرلائنز کو پروازوں سے متعلق خطرات پر مشورے دینے والے ادارے اوسپرے فلائٹ سلوشنز کے میتھیو بوری نے کہا کہ یورپ میں ان واقعات کے پس منظر میں روس کا ممکنہ کردار ہوسکتا ہے، تاہم بعض یورپی علاقوں میں ایران کی جانب سے ہائبرڈ جنگی سرگرمیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ان کے مطابق مسافروں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ متعلقہ ممالک کے حکام ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی رابطے اور مربوط حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔ بعض مواقع پر متاثرہ طیاروں کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے لیے نیٹو کے لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ان واقعات سے ایک روز قبل لندن سے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ جانے والی وِز ایئر کی پرواز کو بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ منتقل کردیا گیا تھا۔